کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: دعاؤں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ آدمی کے لیے ناپسندیدہ ہے کہ وہ ہمارے بیان کردہ دعا کے مخالف دعا مانگے
حدیث نمبر: 941
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : عَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا قَدْ جَهِدَ حَتَّى صَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ كُنْتَ دَعَوْتَ اللَّهَ بِشَيْءٍ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، كُنْتُ أَقُولُ : اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الآخِرَةِ ، فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَسْتَطِيعُهُ ، أَوْ لا تُطِيقُهُ ، فَهَلا قُلْتَ : اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ؟ " ، قَالَ : فَدَعَا اللَّهُ فَشَفَاهُ .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی عیادت کی جو (بیماری کی وجہ سے) پرندے کے بچے کی مانند کمزور ہو گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کیااللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں میں یہ کہتا ہوں۔ ” اے اللہ! تو نے آخرت میں مجھے جو سزا دینی ہے وہ ابھی مجھے دنیا میں ہی دیدے۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تم اس کی طاقت نہیں رکھتے تم یہ کیوں نہیں کہتے۔ ” اے اللہ! تو ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے “ راوی بیان کرتے ہیں: اس نےاللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگی، تواللہ تعالیٰ نے اسے شفا عطا کر دی۔