کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: دعاؤں کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ بندہ اپنے رب جل وعلا سے دنیا اور آخرت میں حسنہ مانگے
حدیث نمبر: 936
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الزُّرَقِيُّ بِطَرَسُوسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : عَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا قَدْ صَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ ، فَقَالَ : " مَا كُنْتَ تَدْعُو بِشَيْءٍ أَوْ تَسْأَلُ ؟ " ، قَالَ : كُنْتُ أَقُولُ : اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبَنِي بِهِ فِي الآخِرَةِ ، فَعَجِّلْهُ فِي الدُّنْيَا ، فَقَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ، لا تَسْتَطِيعُهُ ، أَوْ لا تُطِيقُهُ . قُلِ : اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَا سَمِعَ حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ إِلا ثَمَانِيَةَ عَشَرَ حَدِيثًا ، وَالأُخَرُ سَمِعَهَا مِنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی عیادت کی، جو بیماری کی وجہ سے سکڑ کر پرندے کی مانند ہو گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم کیا دعا مانگتے ہو، یا تم کیا مانگتے ہو۔ اس نے عرض کی: میں یہ کہتا ہوں۔ ” اے اللہ! تو نے آخرت میں مجھ کو جو سزا دینی ہے وہ دنیا میں ہی دیدے۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تم اس کی طاقت نہیں رکھتے تم یہ کہو۔ ” اے اللہ! تو دنیا میں بھی ہمیں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر۔ اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) حمید نامی راوی نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے صرف اٹھارہ احادیث سنی ہیں۔ باقی روایات انہوں نے ثابت کے حوالے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہیں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) حمید نامی راوی نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے صرف اٹھارہ احادیث سنی ہیں۔ باقی روایات انہوں نے ثابت کے حوالے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہیں۔