کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: دعاؤں کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ آدمی کو اللہ جل وعلا سے اپنی حالتوں میں اسلام کے ساتھ حفاظت مانگنی چاہیے
حدیث نمبر: 934
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْعَلاءُ بْنُ رُؤْبَةَ التَّمِيمِيُّ هُوَ الْحِمْصِيُّ ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَشَكَا إِلَيْهِ ذَلِكَ ، وَسَأَلَهُ أَنْ يَأْمُرَ لَهُ بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ شِئْتَ أَمَرْتُ لَكَ بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ ، وَإِنْ شِئْتَ عَلَّمْتُكَ كَلِمَاتٍ هِيَ خَيْرٌ لَكَ ؟ " قَالَ : عَلِّمْنِيهُنَّ ، وَمُرْ لِي بِوَسْقٍ ، فَإِنِّي ذُو حَاجَةٍ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " قُلِ : اللَّهُمَّ احْفَظْنِي بِالإِسْلامِ قَاعِدًا ، وَاحْفَظْنِي بِالإِسْلامِ قَائِمًا ، وَاحْفَظْنِي بِالإِسْلامِ رَاقِدًا ، وَلا تُطِعْ فِي عَدُوًّا حَاسِدًا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ ، وَأَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ الَّذِي هُوَ بِيَدِكَ كُلِّهِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : تُوُفِّيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَهَاشِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ابْنُ تِسْعِ سِنِينَ .
ہاشم بن عبداللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ایک مصیبت لاحق ہو گئی۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے اس بات کی شکایت کی اور آپ سے یہ درخواست کی کہ آپ انہیں کھجوروں کا ایک وسق دینے کا حکم دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اگر تم چاہو، تو میں تمہیں کھجوروں کا ایک وسق دینے کا حکم دیتا ہوں، اور اگر تم چاہو، تو میں تمہیں کچھ کلمات کی تعلیم دیتا ہوں، جو تمہارے لئے زیادہ بہتر ہوں گے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: آپ مجھے ان کلمات کی تعلیم دیں اور مجھے ایک وسق دینے کا بھی حکم دیں۔ مجھے اس کی شدید ضرورت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم یہ پڑھو۔ ” اے اللہ! جب میں بیٹھا ہوں، تو اسلام کے حوالے سے میری حفاظت کر اور جب میں کھڑا ہوں، تو اسلام کے حوالے سے میری حفاظت کر اور جب میں سو رہا ہوں، تو اسلام کے حوالے سے میری حفاظت کر اور میرے بارے میں کسی حسد کرنے والے دشمن کی بات نہ ماننا اور میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کی پیشانی کو تو نے پکڑا ہوا ہے اور میں تجھ سے بھلائی کا سوال کرتا ہوں، جو ساری کی ساری تیرے دست قدرت میں ہے ۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ہاشم بن عبداللہ بن زبیر 9 سال کے تھے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ہاشم بن عبداللہ بن زبیر 9 سال کے تھے۔