کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: دعاؤں کا بیان - سيد الاستغفار کا ذکر کہ آدمی اپنے رب سے اس گناہ کے لیے استغفار مانگتا ہے جو اس نے کیا
حدیث نمبر: 932
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَيِّدُ الاسْتِغْفَارِ أَنْ يَقُولَ الْعَبْدُ : اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي ، وَأَنَا عَبْدُكَ ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ ، أَصْبَحْتُ عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ ، وَأَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذُنُوبِي ، فَاغْفِرْ لِي ، إِنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ " .
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” سید الاستغفار یہ ہے: بندہ یہ کہے: ” اے اللہ! تو میرا پروردگار ہے میں تیرا بندہ ہوں تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ تو نے مجھے پیدا کیا ہے اور میں تیرا بندہ ہوں میں تیرے عہد اور تیرے وعدے پر جہاں تک ہو سکے گا قائم رہوں گا اور میں نے جو کچھ کیا ہے اس کے شر سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں، تو نے میرے اوپر جو نعمت کی ہے میں اس کا اعتراف کرتا ہوں، اور اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں، تو میری مغفرت کر دے۔ بے شک گناہوں کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 932
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1747): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، على شرط البخاري، رجاله ثقات رجال الشيخين غير بشير بن كعب، فمن رجال البخاري.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 928»