کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: دعاؤں کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ ہر لغزش کے بعد استغفار کرے، چاہے وہ طاعت کے مختلف اقسام میں سرگرم ہو
حدیث نمبر: 930
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ ، بِمِصْرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِيئَةً نُكِتَ فِي قَلْبِهِ نُكْتَةٌ ، فَإِنْ هُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ ، صُقِلَتْ ، فَإِنْ عَادَ ، زِيدَ فِيهَا ، فَإِنْ عَادَ ، زِيدَ فِيهَا حَتَّى تَعْلُوَ فِيهِ ، فَهُوَ الرَّانُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ كَلا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ سورة المطففين آية 14 " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب کوئی بندہ غلطی کرتا ہے، تو اس کے دل میں ایک نقطہ لگ جاتا ہے، پھر اگر وہ الگ ہو کر مغفرت طلب کرے اور توبہ کرے، تو وہ صاف ہو جاتا ہے، پھر وہ دوبارہ غلطی کرے، تو اس میں اضافہ ہو جاتا ہے، پھر اگر دوبارہ غلطی کرے، تو اس میں اضافہ ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس میں غالب آ جاتا ہے۔ یہ وہ ران یا (زنگ یا پردہ) ہے جس کا ذکر اللہ نے ان الفاظ میں کیا ہے۔ ” خبردار! ان کے دلوں پر زنگ لگ گیا ہے، جو وہ عمل کرتے ہیں ۔“