کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: دعاؤں کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ آدمی کو اللہ جل وعلا سے اپنے کیے ہوئے گناہوں کے لیے استغفار مانگنا چاہیے
حدیث نمبر: 929
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَخْبَرَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَجُلا مِنْ جُهَيْنَةَ يُقَالُ لَهُ : الأَغَرُّ ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُحَدِّثُ ابْنَ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، تُوبُوا إِلَى رَبِّكُمْ ، فَإِنِّي أَتُوبُ إِلَيْهِ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُوبُوا إِلَى رَبِّكُمْ " يُرِيدُ بِهِ : اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ . وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ : " فَإِنِّي أَتُوبُ إِلَيْهِ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ " . وَكَانَ اسْتِغْفَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتَقْصِيرِهِ فِي الطَّاعَاتِ الَّتِي وَظَّفَهَا عَلَى نَفْسِهِ ، لأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنْ أَخْلاقِهِ إِذَا عَمِلَ خَيْرًا أَنْ يُثْبِتَهُ فَيَدُومَ عَلَيْهِ ، فَرُبَّمَا اشْتَغَلَ فِي بَعْضِ الأَوْقَاتِ عَنْ ذَلِكَ الْخَيْرِ الَّذِي كَانَ يُوَاظِبُ عَلَيْهِ بِخَيْرٍ آخَرَ ، مِثْلُ اشْتِغَالِهِ بِوَفْدِ بَنِي تَمِيمٍ وَالْقِسْمَةِ فِيهِمْ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الظُّهْرِ ، فَلَمَّا صَلَّى الْعَصْرَ أَعَادَهُمَا ، فَكَانَ اسْتِغْفَارُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلتَّقْصِيرِ فِي خَيْرٍ اشْتَغَلَ عَنْهُ بِخَيْرٍ ثَانٍ عَلَى حَسَبِ مَا وَصَفْنَا .
ابوبردہ بیان کرتے ہیں: میں نے جہینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص ” اغر“ کو بیان کرتے ہوئے سنا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے۔ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ بات بتائی کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” اے لوگو! تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں توبہ کرو، کیونکہ میں روزانہ اس کی بارگاہ میں ایک سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں ۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” کہ تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں توبہ کرو “ اس سے مراد یہ ہے، تم اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرو۔ اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” میں اس کی بارگاہ میں روزانہ سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں ۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ان نیکیوں میں کمی کے حوالے سے مغفرت طلب کرتے تھے۔ جن کو آپ نے اپنے لئے باقاعدگی سے مقرر کیا ہوا تھا کہ آپ کے معمولات میں یہ بات شامل تھی کہ جب آپ کوئی نیکی کا کام کرتے تو اسے ثابت رکھتے تھے اور باقاعدگی سے کیا کرتے تھے۔ بعض اوقات آپ کسی مصروفیت کی وجہ سے اس نیکی کے کام کو سرانجام نہیں دے پاتے تھے۔ جسے آپ باقاعدگی سے کیا کرتے تھے۔ اور ایسا کسی دوسرے نیک کام کی وجہ سے ہوتا تھا، جس طرح آپ بنوتمیم کے وفد کے ساتھ مصروف رہے، اور ان کے درمیان مال تقسیم کرنے کی وجہ سے وہ دو رکعت ادا نہیں کر سکے تھے جو آپ ظہر کے بعد ادا کیا کرتے تھے، تو جب آپ نے عصر کی نماز ادا کر لی تو ان دو رکعات کو بھی ادا کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا استغفار اس کمی کے حوالے سے ہوتا تھا جو اس نیکی میں ہوتی تھی جس نیکی کو آپ کسی دوسری نیکی میں مصروفیت کی وجہ سے سرانجام نہیں دے پاتے تھے۔ جیسا کہ ہم پہلے یہ بات ذکر کر چکے ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 929
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1452): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين، أبو الوليد: هو هشام بن عبد الملك الطيالسي، وأبو بردة: هو ابن أبي موسى الأشعري.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 925»