کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: دعاؤں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ ہم نے جو عدد ذکر کیا اس پر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم محدود نہیں رہتے تھے کہ اس سے زیادہ نہ کریں
حدیث نمبر: 926
أَخْبَرَنَا أبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كُنْتُ رَجُلا ذَرِبَ اللِّسَانِ عَلَى أَهْلِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يُدْخِلَنِي لِسَانِي النَّارَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَيْنَ أَنْتَ عَنِ الاسْتِغْفَارِ ؟ إِنِّي لأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ " . قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : فَذَكَرْتُهُ لأَبِي بُرْدَةَ ، فَقَالَ : " وَأَتُوبُ " .
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایک ایسا شخص تھا کہ میں اپنی بیوی کے ساتھ بد زبانی کیا کرتا تھا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میری زبان مجھے جہنم میں داخل کر دے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم استغفار سے کیوں غافل ہو، میں روزانہ ایک سو مرتبہاللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔ ابواسحاق کہتے ہیں: میں نے ابوبردہ کے سامنے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا: (روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں) ” میں توبہ کرتا ہوں “ (یعنی روزانہ سو مرتبہ توبہ اور استغفار کرتا ہوں)۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 926
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «الروض النضير» (280). [تنبيه!! ] وضع الشيخ الألباني لفظة المغيرة بين معقوفين هكذا [الْمُغِيرَةِ] وقال: ما بين المعقوفين سقط من الأصل. - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف، لجهالة عبيد الله بن أبي المغيرة.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 922»