کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: دعاؤں کا بیان - اس ایک خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت میں مہارت نہ رکھنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ہمارے ذکر کردہ پہلی دو خبروں کے مخالف ہے
حدیث نمبر: 921
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الأَوَّلُ ، نَزَلَ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَيَقُولُ جَلَّ وَعَلا : هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ ؟ هَلْ مِنْ تَائِبٍ ؟ هَلْ مِنْ سَائِلٍ ؟ هَلْ مِنْ دَاعٍ ؟ حَتَّى يَنْفَجِرَ الصُّبْحُ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي خَبَرِ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ ، أَنَّ اللَّهَ يَنْزِلُ حَتَّى يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ ، وَفِي خَبَرِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَغَرِّ أَنَّهُ يَنْزِلُ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الأَوَّلِ ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ نُزُولُهُ فِي بَعْضِ اللَّيَالِي حَتَّى يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ ، وَفِي بَعْضِهَا حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الأَوَّلُ ، حَتَّى لا يَكُونَ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ تَهَاتُرٌ وَلا تَضَادٌّ .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ انتظار کرتا ہے، یہاں تک کہ جب ایک تہائی رات گزر جاتی ہے، تو ہمارا پروردگار آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے ہمارا پروردگار فرماتا ہے: کیا کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے۔ کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے۔ کیا کوئی مانگنے والا ہے؟ کیا کوئی دعا کرنے والا ہے؟ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ایسا صبح صادق تک ہوتا رہتا ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) امام مالک نے زہری کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے، جیسے ہم نے ذکر کیا ہے، جب ایک تہائی رات باقی رہ جاتی ہے، تواللہ تعالیٰ نزول کرتا ہے، اور ابواسحاق کی الاغر کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے، وہ نزول کرتا ہے، یہاں تک کہ رات کا ایک تہائی حصہ گزر جاتا ہے، تو اس میں اس بات کا احتمال موجود ہے، کچھ راتوں میں وہ اس وقت نزول کرتا ہو جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہو اور بعض راتوں میں اس وقت نزول کرتا ہو جب رات کا ایک تہائی ابتدائی حصہ رخصت ہو جاتا ہو۔ اس طرح دونوں روایات میں اختلاف اور تضاد نہیں رہے گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 921
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2/ 197): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 917»