کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: دعاؤں کا بیان - اس خبروں کا ذکر جو اللہ جل وعلا کے فرمان "اے ایمان والو! اس پر صلوٰة اور سلامتی بھیجو" کی تفسیر کرتی ہیں
حدیث نمبر: 912
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : قَالَ لِي كَعَبُ بْنُ عَجْرَةَ : أَلا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً ؟ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ عَرَفْنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ ؟ قَالَ : " قُولُوا : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ . اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ " .
عبدالرحمن بن ابولیلی بیان کرتے ہیں: سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمیں یہ، تو پتہ چل گیا ہے کہ ہم آپ پر سلام کیسے بھیجیں، تو ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ کہو۔ اے اللہ! تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر درود نازل کر جس طرح، تو نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی آل پر درود نازل کیا۔ بے شک، تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے، اے اللہ! تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر برکت نازل کر جس طرح، تو نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی آل پر برکت نازل کی تھی۔ بے شک، تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 912
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «فضل الصلاة على النبي» (56): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 909»