کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: دعاؤں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اس امت میں سے جو شخص مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوٰة پڑھتا ہے وہ ان کی قبر میں ان تک پیش کی جاتی ہے
حدیث نمبر: 910
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فِيهِ خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ ، وَفِيهِ قُبِضَ ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلاةِ فِيهِ ، فَإِنَّ صَلاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ " . قَالُوا : وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرَمْتَ ؟ فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا حَرَّمَ عَلَى الأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَامَنَا " .
سیدنا اوس رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” تمہارے دنوں میں سب سے زیادہ فضیلت والا، جمعے کا دن ہے۔ اس دناللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ اسی دن ان کا انتقال ہوا۔ اسی دن پہلی مرتبہ پھونک ماری جائے گی، جب اسی دن قیامت آئے گی، تو تم اس دن میں مجھ پر بکثرت درود بھیجا کرو تمہارا درود میرے سامنے پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے عرض کی: ہمارا درود آپ کے سامنے کیسے پیش کیا جائے گا، جبکہ آپ بوسیدہ ہوں چکے ہو گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” بے شکاللہ تعالیٰ نے زمین کے لئے یہ بات حرام قرار دی ہے کہ وہ ہمارے (یعنی انبیاء) کے جسم کو کھائے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 910
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (962 و 1370). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير أبي الأشعث- وهو شراحيل بن آدة- فمن رجال مسلم حسين بن علي هو الجعفي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 907»