کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: دعاؤں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ مظلوم کی دعا بلا شبہ قبول ہوتی ہے، چاہے اس پر کچھ وقت گزر جائے
حدیث نمبر: 874
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ رَوَاحَةَ الْمَنْبِجِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعْدٌ الطَّائِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْمُدِلَّةِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ تُحْمَلُ عَلَى الْغَمَامِ ، وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاوَاتِ ، وَيَقُولُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : وَعِزَّتِي لأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو الْمُدِلَّةِ اسْمُهُ : عُبَيْدُ اللَّهِ مَدِينِيٌّ ، ثِقَةٌ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” مظلوم کی بددعا بادلوں کے اوپر اٹھائی جاتی ہے اور (اس کے لیے) آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور پروردگار یہ فرماتا ہے: مجھے اپنی عزت کی قسم ہے میں تمہاری مدد ضرور کروں گا (خواہ تھوڑی دیر بعد کروں ۔“)
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوالمدلہ کا نام عبیداللہ مدینی ہے یہ ثقہ ہیں۔
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوالمدلہ کا نام عبیداللہ مدینی ہے یہ ثقہ ہیں۔
حدیث نمبر: 875
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَعْرُوفِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ رَبَاحٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتَّقُوا دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتَّقُوا دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ " أَمْرٌ بِاتِّقَاءِ دَعْوَةِ الْمَظْلُومِ ، مُرَادُهُ الزَّجْرَ عَمَّا تَوَلَّدَ ذَلِكَ الدُّعَاءُ مِنْهُ ، وَهُوَ الظُّلْمُ ، فَزَجَرَ عَنِ الشَّيْءِ بِالأَمْرِ بِمُجَانَبَةِ مَا تَوَلَّدَ مِنْهُ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” مظلوم کی بددعا سے بچو ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ” مظلوم کی بددعا سے بچو “ یہاں آپ نے مظلوم کی بددعا سے بچنے کا حکم دیا ہے، لیکن اس سے مراد اس چیز سے رکنا ہے، جس کے نتیجے میں یہ بدعا سامنے آتی ہے، اور وہ چیز ظلم ہے۔ یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چیز سے رکنے کے حکم کے ذریعے اس سے الگ رہنے کا حکم دیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ چیز سامنے آئی ہے۔