کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: دعاؤں کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ آدمی کو اپنے رب جل وعلا سے جامع خیر مانگنا چاہیے اور جامع شر سے اس کی پناہ مانگنی چاہیے
حدیث نمبر: 869
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، مَا لا أُحْصِي مِنْ مَرَّةٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حمادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهَا أَنْ تَقُولَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ عَاجِلَهُ وَآجِلَهُ ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمُ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ عَاجِلَهُ وَآجِلَهُ ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمُ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ مَا عَاذَ بِهِ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ ، وَأَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ وَعَمَلٍ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ وَعَمَلٍ ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ قَضَيْتَهُ لِي خَيْرًا " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ تعلیم دی تھی کہ وہ یہ دعا مانگیں: ” اے اللہ! میں تجھ سے ساری بھلائی کی دعا کرتا ہوں، خواہ وہ جلدی ملے یا دیر سے ملے، مجھے اس کا علم ہو یا مجھے اس کا علم نہ ہو اور میں ہر قسم کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں خواہ وہ جلدی ہو یا دیر سے ہو، خواہ مجھے اس کا علم ہو یا علم نہ ہو۔ اے اللہ! میں تجھ سے ہر وہ بھلائی مانگتا ہوں جو تیرے بندے اور تیرے نبی نے تجھ سے مانگی ہے اور ہر اس شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس سے تیرے بندے اور تیرے نبی نے پناہ مانگی ہے، اور میں تجھ سے جنت اور جنت سے قریب کر دینے والے قول اور میں جہنم سے جہنم کے قریب کر دینے والے قول سے پناہ مانگتا ہوں، اور میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں، تو نے میرے بارے میں جو بھی فیصلہ کیا ہے وہ بہتر کر دے۔