کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: دعاؤں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کا اپنی جامع دعاؤں میں کیا ارادہ ہونا چاہیے اور اس کی حالتوں کی وضاحت
حدیث نمبر: 868
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو زُنَيْجٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لِرَجُلٍ : " مَا تَقُولُ فِي الصَّلاةِ ؟ " ، فَقَالَ : أَتَشَهَّدُ ، ثُمَّ أَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ . أَنَا وَاللَّهِ مَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے دریافت کیا: تم نماز میں کیا پڑھتے ہو؟ (یعنی کیا دعا مانگتے ہو) اس نے کہا: میں تشہد پڑھتا ہوں پھر میں یہ دعا مانگتا ہوں۔ ” اے اللہ! میں تجھ سے جنت مانگتا ہوں اور جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں “ (اس شخص نے عرض کی) اللہ کی قسم! میں آپ کی طرح اور سیدنا معاذ کی طرح (جامع دعا) نہیں مانگتا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم بھی اسی کے آس پاس والی مانگتے ہیں ۔“