کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: اذکار کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ جو شخص اللہ کے ذکر کرنے والوں کی صحبت میں بیٹھتا ہے، اللہ اسے ان کی صحبت سے خوشی عطا کرتا ہے
حدیث نمبر: 857
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ لِلَّهِ مَلائِكَةً فُضُلا عَنْ كُتَّابِ النَّاسِ ، يَطُوفُونَ فِي الطُّرُقِ ، يَلْتَمِسُونَ أَهْلَ الذِّكْرِ ، فَإِذَا وَجَدُوا قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ ، تَنَادَوْا : هَلُمُّوا إِلَى حَاجَتِكُمْ ، فَيَحُفُّونَ بِهِمْ بِأَجْنِحَتِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ مِنْهُمْ ، فَيَقُولُ : مَا يَقُولُ عِبَادِي ؟ فَيَقُولُونَ : يُكَبِّرُونَكَ وَيُمَجِّدُونَكَ وَيُسَبِّحُونَكَ وَيَحْمَدُونَكَ ، فَيَقُولُ : هَلْ رَأَوْنِي ؟ فَيَقُولُونَ : لا ، فَيَقُولُ : فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي ؟ فَيَقُولُونَ : لَوْ رَأَوْكَ لَكَانُوا لَكَ أَشَدَّ عِبَادَةً وَأَكْثَرَ تَسْبِيحًا وَتَحْمِيدًا وَتَمْجِيدًا ، فَيَقُولُ : وَمَا يَسْأَلُونِي ؟ قَالَ : فَيَقُولُونَ : يَسْأَلُونَكَ الْجَنَّةَ ، فَيَقُولُ : فَهَلْ رَأَوْهَا ؟ فَيَقُولُونَ : لا وَاللَّهِ يَا رَبِّ ، فَيَقُولُ : فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا ؟ فَيَقُولُونَ : لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا عَلَيْهَا أَشَدَّ حِرْصًا وَأَشَدَّ لها طَلَبًا ، وَأَعْظَمَ فِيهَا رَغْبَةً ، فَيَقُولُ : وَمِمَّ يَتَعَوَّذُونَ ؟ فَيَقُولُونَ : مِنَ النَّارِ ، فَيَقُولُ : وَهَلْ رَأَوْهَا ؟ فَيَقُولُونَ : لا وَاللَّهِ يَا رَبِّ ، فَيَقُولُ : فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا ؟ فَيَقُولُونَ : لَوْ رَأَوْهَا لَكَانُوا مِنْهَا أَشَدَّ فِرَارًا ، وَأَشَدَّ هَرَبًا ، وَأَشَدَّ خَوْفًا ، فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَلائِكَتِهِ : أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ . ، قَالَ : ، فَقَالَ مَلَكٌ مِنَ الْمَلائِكَةِ : إِنَّ فِيهِمْ فُلانًا لَيْسَ مِنْهُمْ إِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَةٍ ، قَالَ : فَهُمُ الْجُلَسَاءُ لا يَشْقَى جَلِيسُهُمْ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو لوگوں کے اعمال نوٹ کرنے کے علاوہ ہیں۔ وہ راستوں میں گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ اہل ذکر کو تلاش کرتے ہیں۔ جب انہیں کچھ لوگ ملتے ہیں جو اللہ کا ذکر کر رہے ہوں، تو وہ (ایک دوسرے کو) بلاتے ہیں۔ اپنے مقصود کی طرف آ جاؤ پھر وہ آسمان دنیا تک اپنے پروں سے انہیں ڈھانپ لیتے ہیں۔ ان کا پروردگار ان سے دریافت کرتا ہے، حالانکہ وہ ان سے زیادہ بہتر جانتا ہے پروردگار فرماتا ہے۔ میرے بندے کیا کہتے ہیں۔ فرشتے جواب دیتے ہیں: وہ تیری کبریائی تیری تکبیر تیری پاکی اور تیری حمد بیان کرتے ہیں: پروردگار دریافت کرتا ہے: کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے فرشتے جواب دیتے ہیں: جی نہیں پروردگار دریافت کرتا ہے: اگر وہ مجھے دیکھ لیتے، تو کیا ہوتا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: اگر وہ تجھے دیکھ لیتے، تو زیادہ شدت کے ساتھ تیری پاکی بیان کرتے۔ زیادہ حمد اور بزرگی بیان کرتے، پروردگار دریافت کرتا ہے: وہ لوگ مجھ سے کیا مانگتے ہیں؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: وہ تجھ سے جنت مانگتے ہیں۔ پروردگار فرماتے ہیں کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: جی نہیں اللہ کی قسم! (اے پروردگار انہوں نے اسے نہیں دیکھا) پروردگار فرماتا ہے: اگر وہ اسے دیکھ لیتے، تو کیا ہوتا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: اگر وہ اسے دیکھ لیتے، تو وہ اس کے حصول کی زیادہ خواہش کرتے اور زیادہ شدت کے ساتھ اس کی رغبت کرتے پروردگار فرماتا ہے: وہ لوگ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: وہ جہنم سے پناہ مانگتے ہیں۔ پروردگار دریافت کرتا ہے: کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: جی نہیں، اللہ کی قسم! اے ہمارے پروردگار (انہوں نے اسے نہیں دیکھا) پروردگار فرماتا ہے: اگر وہ اسے دیکھ لیتے، تو کیا ہوتا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: اگر وہ اسے دیکھ لیتے، تو اس سے زیادہ دور بھاگتے، شدت سے بھاگتے اور اس سے زیادہ خوف زدہ ہوتے، تو پروردگار فرشتوں سے فرماتا ہے: میں تم لوگوں کو گواہ بنا کے کہتا ہوں میں نے ان لوگوں کی مغفرت کر دی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان فرشتوں میں سے ایک فرشتہ عرض کرتا ہے، ان میں فلاں شخص تھا جو ان میں سے نہیں تھا وہ اپنے کام کے سلسلہ میں وہاں آیا تھا پروردگار فرماتا ہے: وہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے ہوئے ایسے لوگ ہیں جن کے ساتھ بیٹھنے والا بھی محروم نہیں ہوتا۔