کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اذکار کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ مسلمان آدمی کو اللہ جل وعلا کی حمد کرنی چاہیے کہ اس نے اسے اسلام کی ہدایت دی جب وہ غیر اسلام یا قبر دیکھے
حدیث نمبر: 847
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُرَيْجٍ النَّقَّالُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا مَرَرْتُمْ بِقُبُورِنَا وَقُبُورِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَأَخْبِرُوهُمْ أَنَّهُمْ فِي النَّارِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَمَرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْخَبَرِ الْمُسْلِمَ إِذَا مَرَّ بِقَبْرِ غَيْرِ الْمُسْلِمِ ، أَنْ يَحْمَدَ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا عَلَى هِدَايَتِهِ إِيَّاهُ الإِسْلامَ ، بِلَفْظِ الأَمْرِ بِالإِخْبَارِ إِيَّاهُ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يُخَاطَبَ مَنْ قَدْ بَلِيَ بِمَا لا يَقْبَلُ عَنِ الْمُخَاطِبِ بِمَا يُخَاطِبُهُ بِهِ .
” جب تم زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والی ہماری اور اپنی یعنی (ہماری اور اپنے رشتے داروں) کی قبروں سے گزرو، تو انہیں بتا دو وہ لوگ جہنم میں ہیں ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کو یہ حکم دیا ہے، جب وہ کسی غیر مسلم کی قبر کے پاس سے گزرے تو اس بات پراللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے کہاللہ تعالیٰ نے اسے اسلام کی ہدایت نصیب کی ہے۔ یہاں ” امر “ کے لفظ کے ذریعے اس بات کی اطلاع دی گئی ہے، وہ اہل جہنم (میں سے) ہے کیونکہ یہ بات ناممکن ہے، ان کو مخاطب کیا جائے جو بوسیدہ ہو چکے ہیں اور مخاطب کی طرف سے خطاب کو قبول نہیں کر سکتے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 847
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (18)، «أحكام الجنائز» (252). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف جداً، الحارث بن سريج قال ابن معين. ليس شيء، وقال النسائي. ليس بثقة، وقال ابن عدي: ضعيف يسرق الحديث، وشيخه يحيي بن اليمان كثير الخط.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 844»