کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اذکار کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا کی حمد کی حالت ایسی ہے کہ اس کے حامد کے لیے اس کے برابر لکھی جاتی ہے جیسے اس نے وہ عمل کیا ہو
حدیث نمبر: 845
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ حَفْصٍ ابْنِ أَخِي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَلْقَةِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ ، فَقَالَ : السَّلامُ عَلَيْكُمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَعَلَيْكُمُ السَّلامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ " . فَلَمَّا جَلَسَ ، قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ قُلْتَ ؟ " فَرَدَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا قَالَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَقَدِ ابْتَدَرَهَا عَشَرَةُ أَمْلاكٍ كُلُّهُمْ حَرِيصٌ عَلَى أَنْ يَكْتُبُوهَا ، فَمَا دَرَوْا كَيْفَ يَكْتُبُونَهَا ، فَرَجَعُوهُ إِلَى ذِي الْعِزَّةِ جَلَّ ذِكْرُهُ ، فَقَالَ : اكْتُبُوهَا كَمَا قَالَ عَبْدِي " . قَالَ الشَّيْخُ : مَعْنَى " قَالَ عَبْدِي " فِي الْحَقِيقَةِ أَنِّي قَبِلْتُهُ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس دوران ایک شخص آیا۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور حاضرین کو بھی سلام کیا۔ اس نے کہا: السلام علیکم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: و علیکم السلام ورحمۃ اللہ برکاتہ، یا، وہ شخص بیٹھ گیا تو اس نے کہا: ”اللہ تعالیٰ کے لئے ہر طرح کی حمد مخصوص ہے۔ ایسی حمد جو زیادہ ہو پاک ہو اس میں برکت موجود ہو، جسے ہمارا پروردگار پسند کرے ۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے دریافت کیا: تم نے کیا کلمات کہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ کلمات اس نے دوبارہ دوہرا دیئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے بارہ فرشتے تیزی سے اس کی طرف لپکے تھے۔ ان میں سے ہر ایک کی یہ خواہش تھی وہ اسے نوٹ کر لے پھر انہیں یہ سمجھ نہیں آئی وہ اسے کیسے نوٹ کریں۔ وہ واپساللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گئے، تواللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم اسے ایسے نوٹ کر لو جس طرح میرے بندے نے کہے ہیں ۔“ شیخ کہتے ہیں: ” میرے بندے نے کہا: “ کا مطلب درحقیقت یہ ہے، میں نے اس کو قبول کر لیا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 845
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «التعليق الرغيب» (2/ 254). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات، إلا أن خلف بن خليفة اختلط بأخرة، وقد أخرج له مسلم من رواية قتيبة عنه.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 842»