کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اذکار کا بیان - اللہ جل وعلا کے فضل کا ذکر کہ وہ اپنے حامد کو قیامت کے دن میزان کے بھرنے کا ثواب عطا کرتا ہے
حدیث نمبر: 844
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، عَنْ أَخِيهِ زَيْدِ بْنِ سَلامٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلامٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الأَشْعَرِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ شَطْرُ الإِيمَانِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلأُ الْمِيزَانَ ، وَالتَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ مِلْءُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ ، وَالصَّلاةُ نُورٌ ، وَالزَّكَاةُ بُرْهَانٌ ، وَالصَّدَقَةُ ضِيَاءٌ ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو ، فَبَائِعٌ نَفْسَهُ ، فَمُعْتِقُهَا ، أَوْ مُوبِقُهَا " .
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: اچھی طرح وضو کرنا نصف ایمان ہے۔ «الحمدللہ» پڑھنا میزان کو بھر دیتا ہے «سبحان الله»، «الحمداللہ»، «اللہ اکبر» پڑھنا آسمانوں اور زمین کے (درمیان کی جگہ کو) بھر دیتا ہے نماز نور ہے زکوۃ برہان ہے صدقہ روشنی ہے قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے ہر شخص نکلتا ہے اور وہ اپنے آپ کا سودا کرتا ہے، تو یا، تو خود کو آزاد کروا لیتا ہے یا خود کو غلام بنا لیتا ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 844
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج مشكلة الفقر» (35/ 59): م نحوه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح رجاله ثقات رجال الصحيح غير محمد بن شعيب بن شابور وعبد الرحمن بن غنم، فقد روى لهما أصحابُ السنن. وأبو سلام هو: ممطور الحبشي من تابعي أهل الشام.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 841»