کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: اذکار کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا ہر تسبیح، تکبیر، تحمید اور تہلیل کے ساتھ بندے کے لیے صدقہ لکھتا ہے
حدیث نمبر: 838
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالأَجْرِ ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي ، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ ، وَيَتَصَدَّقُونَ بِفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَولَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ مَا تَتَصَدَّقُونَ بِهِ ، كُلُّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ ، وَكُلُّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ ، وَكُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ ، وَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ ، وَأَمْرٌ بِمَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ ، وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ " .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! صاحب حیثیت لوگ اجر لے گئے ہیں۔ وہ نماز ادا کرتے ہیں جس طرح ہم نماز ادا کرتے ہیں وہ اسی طرح روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم روزے رکھتے ہیں، لیکن وہ اپنے اضافی مال کو صدقہ کر دیتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیااللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے وہ چیز نہیں بنائی جسے تم صدقہ کیا کرو۔ «سبحان اللہ» کہنا صدقہ ہے۔ «اللہ اکبر» کہنا صدقہ ہے۔ «الحمدللہ» کہنا صدقہ ہے «لا الله الا اللہ» پڑھنا صدقہ ہے۔ نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے۔ برائی سے منع کرنا صدقہ ہے۔