کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: اذکار کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ تسبیح، تحمید، تہلیل اور تکبیر اللہ کی مخلوق کی تعداد اور اس کے خالق ہونے کے مطابق کی جائے
حدیث نمبر: 837
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلالٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهَا ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ فِي يَدِهَا نَوًى أَوْ حَصًى تُسَبِّحُ ، فَقَالَ : " أَلا أُخْبِرُكِ بِمَا هُوَ أَيْسَرُ عَلَيْكِ مِنْ هَذَا وَأَفْضَلُ ؟ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الأَرْضِ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ " .
عائشہ بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص) کا بیان نقل کرتی ہیں۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک خاتون کے پاس تشریف لے گئے جن کے ہاتھ میں گٹھلیاں تھیں۔ جن پر وہ گن کر تسبیحات پڑھ رہی تھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں نہ بتاؤں جو تمہارے لئے زیادہ آسان اور زیادہ فضیلت والی ہو (وہ یہ کلمات ہے) ” میںاللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو ان چیزوں کی تعداد کے مطابق ہو جنہیں آسمان میں پیدا کیا میںاللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو ان چیزوں کی تعداد کے مطابق ہو جنہیں زمین میں پیدا کیا پاکی بیان کرتا ہوں ان چیزوں کی تعداد کے برابر جنہیں پیدا کرنا ہے۔ ” پھر تم «الله اكبر » بھی اسی کی مانند کہو «الحمدلله» بھی اس کی مانند کہو «لا اله الا الله الا اللہ» بھی اسی کی مانند کہو اور «ولا حول ولا قوة» بھی اسی کی مانند پڑھو ۔“