کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اذکار کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اللہ جل وعلا کے لیے تسبیح، تحمید، تمجید، تہلیل اور تکبیر کی کثرت کرے
حدیث نمبر: 833
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ زَبْرٍ ، وَابْنُ جَابِرٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَبُو سَلامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلْمَى رَاعِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَقِيتُهُ بِالْكُوفَةِ فِي مَسْجِدِهَا ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " بَخٍ بَخٍ ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ بِخَمْسٍ مَا أَثْقَلَهُنَّ فِي الْمِيزَانِ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَالْوَلَدُ الصَّالِحُ يُتَوَفَّى لِلْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فَيَحْتَسِبُهُ " .
ابوسلمی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے ہیں۔ میری ان سے ملاقات کوفہ کی مسجد میں ہوئی، تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی۔ وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” بہت خوب بہت خوب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے پانچ کا اشارہ کرتے ہوئے فرمایا (یہ پانچ چیزیں) میزان میں کتنی وزنی ہیں۔ «سبحان الله، الحمدلله، لا اله الا الله اور اللہ اکبر پڑھنا اور یہ کہ کسی مسلمان کا نیک بچہ فوت ہو جائے اور وہ اس پر ثواب کی امید رکھے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 833
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1204). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله رجال الصحيح، غير شيخ ابن حبان وهو ثقة، والوليد- وهو ابن مسلم- قد صرح بالتحديث، فانتفت شبهه تدليسه، وابن جابر هو: عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، وأبو سلام هو: ممطور الحبشي وأبو سلمى: يقال: اسمه حريث، يعد في الشاميين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 830»