کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: اذکار کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ جتنا آدمی اپنے خالق کے علاوہ حول و قوة سے براءت کرتا ہے، اس کے جنت میں درخت زیادہ ہوتے ہیں
حدیث نمبر: 821
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مَرَّ عَلَى إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ ، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ ، لِجِبْرِيلَ : مَنْ مَعَكَ يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ جِبْرِيلُ : هَذَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ : يَا مُحَمَّدُ مُرْ أُمَّتَكَ أَنْ يُكْثِرُوا غِرَاسَ الْجَنَّةِ ، فَإِنَّ تُرْبَتَهَا طَيِّبَةٌ ، وَأَرْضُهَا وَاسِعَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لإِبْرَاهِيمَ : وَمَا غِرَاسُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ " .
سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی کہ جس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کروائی گئی آپ کا گزر سیدنا ابراہیم خلیل علیہ السلام کے پاس سے ہوا، تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا: اے جبرائیل آپ کے ساتھ کون ہے؟ سیدنا جبرائیل نے بتایا یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ اپنی امت کو یہ ہدایت کریں کہ وہ جنت میں زیادہ درخت لگائے، کیونکہ اس کی مٹی پاکیزہ ہے اور اس کی زمین کشادہ ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا: جنت میں درخت لگانے سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: «لا حول ولا قوة الا بالله» (پڑھنا)