کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: اذکار کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ "لا حول ولا قوة الا باللہ" کا کثرت سے ورد کرے کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ہے
حدیث نمبر: 820
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ بْنِ بَرَكَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الأَوْدِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، أَلا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ " قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ " .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل رہا تھا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اے ابوذر! کیا میں تمہاری رہنمائی جنت کے ایک خزانے کی طرف نہ کروں۔ میں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا: «لا حول ولا قوة الا بالله» (جنت کا خزانہ ہے)