کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: اذکار کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ بندے کا اپنے رب جل وعلا کا اپنے اندر ذکر کرنا اللہ عز وجل کو اس کی مغفرت کے ساتھ اپنی بادشاہت میں یاد دلاتا ہے
حدیث نمبر: 812
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : عَبْدِي عِنْدَ ظَنِّهِ بِي ، وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي ، إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي ، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلأٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلأٍ خَيْرٌ مِنْهُ وَأَطْيَبُ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ جَلَّ وَعَلا : " إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي " يُرِيدُ بِهِ إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ بِالدَّوَامِ عَلَى الْمَعْرِفَةِ الَّتِي وَهَبْتُهَا لَهُ ، وَجَعَلْتُهُ أَهْلا لَهَا ، ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي ، يُرِيدُ بِهِ فِي مَلَكُوتِي بِقَبُولِ تِلْكَ الْمَعْرِفَةِ مِنْهُ مَعَ غُفْرَانِ مَا تَقَدَّمَهُ مِنَ الذُّنُوبِ . ثُمَّ قَالَ : " وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلأٍ " يُرِيدُ بِهِ : وَإِنْ ذَكَرَنِي بِلِسَانِهِ ، يُرِيدُ بِهِ الإِقْرَارَ الَّذِي هُوَ عَلامَةُ تِلْكَ الْمَعْرِفَةِ فِي مَلأٍ مِنَ النَّاسِ لِيَعْلَمُوا إِسْلامَهُ ، ذَكَرْتُهُ فِي مَلأٍ خَيْرٍ مِنْهُ ، يُرِيدُ بِهِ ذَكَرْتُهُ فِي مَلأٍ خَيْرٍ مِنْهُ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ فِي الْجَنَّةِ ، بِمَا أَتَى مِنَ الإِحْسَانِ فِي الدُّنْيَا الَّذِي هُوَ الإِيمَانُ إِلَى أَنِ اسْتَوْجَبَ بِهِ التَّمَكُّنَ مِنَ الْجِنَانِ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے، تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں اگر وہ دل میں مجھے یاد کرتا ہے، تو میں بھی دل میں اسے یاد کرتا ہوں اگر وہ لوگوں میں مجھے یاد کرتا ہے، تو میں بھی اس سے بہتر اور پاکیزہ گروہ میں اس کا تذکرہ کرتا ہوں ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ” اگر وہ اپنے نفس میں (یعنی دل میں یا تنہائی میں) میرا ذکر کرتا ہے، تو میں اپنے من میں اس کا ذکر کرتا ہوں ۔“ اس سے مراد یہ ہے اگر وہ اپنے من میں اس معرفت کی وجہ سے باقاعدگی سے میرا ذکر کرتا ہے، جو (معرفت) میں نے اسے ہبہ کی ہے اور میں نے اسے اس کا اہل بنایا ہے، تو پھر میں اپنے من میں اس کا ذکر کرتا ہوں۔ اس سے مراد یہ ہے: میں اپنے ملکوت میں اس کی طرف سے اس معرفت کو قبول کرتا ہوں، اور اس کے ہمراہ اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہوں۔ پھر اس نے یہ فرمایا: ” اگر وہ لوگوں میں میرا ذکر کرے “ اس سے مراد یہ ہے: اگر وہ اپنی زبان کے ہمراہ میرا ذکر کرے گا، اس سے مراد وہ اقرار ہے، جو لوگوں کی موجودگی میں اس معرفت کی علامت ہو گا تاکہ انہیں اس کے اسلام کا پتہ چل جائے۔ تو میں اس سے بہتر گروہ میں اس کا ذکر کرتا ہوں۔ اس سے مراد یہ ہے میں اس کا ذکر ایسے گروہ میں کرتا ہوں، جو اس سے بہتر ہے، جس میں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین ہوں گے جو جنت میں ہوں گے اس (شخص کے ذکر کی صورت یہ ہو گی) اس نے دنیا میں بھلائی کی ہو گی جو ایمان ہے، یہاں تک اس (ایمان) کی وجہ سے وہ جنت میں رہنے کا مستحق ہو جائے گا۔