کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قرآن کی تلاوت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت میں مہارت نہ رکھنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ علی بن ابی طالب کی خبر کے مخالف ہے جو ہم نے ذکر کی
حدیث نمبر: 802
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى أَحْيَانِهِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُ عَائِشَةَ : " يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى أَحْيَانِهِ " أَرَادَتْ بِهِ الذِّكْرَ الَّذِي هُوَ غَيْرُ الْقُرْآنِ ، إِذِ الْقُرْآنُ يَجُوزُ أَنْ يُسَمَّى الَّذِي ذَكَرَ ، وَقَدْ كَانَ لا يَقْرَؤُهُ وَهُوَ جُنُبٌ ، وَكَانَ يَقْرَؤُهُ فِي سَائِرِ الأَحْوَالِ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت میںاللہ تعالیٰ کا ذکر کر لیتے تھے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ کہنا: ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام اوقات میںاللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے ۔“ اس سے ان کی مراد وہ ذکر ہے، جو قرآن کے علاوہ ہو، کیونکہ یہ ممکن ہے، انہوں نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں اس سے مراد قرآن ہو۔ حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں اس کی تلاوت نہیں کرتے تھے۔ آپ باقی تمام حالتوں میں اس کی تلاوت کر لیتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 802
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. * [البَهِيّ] قال الشيخ: في مطبوعة دار الكتب العلمية: «الزهري»! * [ذَكَرَ] قال الشيخ: كذا في الطبعة الأخرى، ولعل الصواب: «الذكر»، أو نحوه؛ كما في قوله - تعالى -: {وَأنزَلنَا إِليَكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيهم}. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 799»