کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قرآن کی تلاوت کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر اس فعل کا حکم دیا گیا
حدیث نمبر: 790
أَخْبَرَنَا الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " هَلْ لَكَ فِي رَبِيبَةٍ يَكْفُلُهَا رَبِيبٌ ؟ " قَالَ : ثُمَّ جَاءَ فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : تَرَكْتُهَا عِنْدَ أُمِّهَا . قَالَ : " فَمَجِيءٌ مَا جَاءَ بِكَ ؟ " قَالَ : جِئْتُ لِتُعَلِّمَنِي شَيْئًا أَقُولُهُ عِنْدَ مَنَامِي ، قَالَ : " اقْرَأْ : قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ سورة الكافرون آية 1 ، ثُمَّ نَمْ عَلَى خَاتِمَتِهَا ، فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ " .
فروہ بن نوفل اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اپنی سوتیلی بیٹی کو حاصل کرنا چاہتے ہو وہ اپنے سوتیلے باپ کی کفالت میں ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہی سوال کیا، تو انہوں نے عرض کی: میں نے اسے اس کی ماں کے پاس چھوڑ دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کیوں آئے ہو۔ اس نے کہا: میں اس لئے آیا ہوں تاکہ آپ مجھے کسی ایسی چیز کی تعلیم دیجئے جسے میں سوتے وقت پڑھ لیا کروں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سورۃ الکفرون کی تلاوت کیا کرو تم اسے مکمل پڑھ کے سویا کرو، کیونکہ یہ شرک سے براۃ (کا اظہار) ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 790
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح بما قبله، دون قصة الربيبة. * [أَخْبَرَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ] قال الشيخ: قلت: قد تابع زهيراً: سفيان، عن أبي إسحاق: عنه البيهقي في «شعب الإيمان» (2/ 498 2519). وسفيان: هو الثوري، سمع منه قبل الاختلاط. * [فَيَكْفُلُهَا] قال الناشر: في مطبوعة دار الكتب العلمية «يكفلها»، وصححه الشيخ بخطه. * [قَالَ: أَرَاهَا] قال الناشر: ما بين المعقوفين سقط من «الأصل»، واستدركه الشيخ بخطه. * [قَالَ عَلَى هَذَا مِن زُهَير] قال الناشر: ما بين المعقوفين سقط من «الأصل»، واستدركه الشيخ بخطه. تنبيه!! ما بين المعقوفتين زيادة من «طبعة باوزير» - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الصحيح.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 787»