کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قرآن کی تلاوت کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ سورہ "تبارک الذی بیدہ الملک" کی کثرت سے قراءت کی جائے
حدیث نمبر: 787
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : قُلْتُ لأَبِي أُسَامَةَ : أَحَدَّثَكُمْ شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُشَمِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ سُورَةً فِي الْقُرْآنِ ثَلاثُونَ آيَةً ، تَسْتَغْفِرُ لِصَاحِبِهَا حَتَّى يُغْفَرَ لَهُ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ سورة الملك آية 1 " ، فَأَقَرَّ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ وَقَالَ : نَعَمْ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسْتَغْفِرُ لِصَاحِبِهَا " أَرَادَ بِهِ ثَوَابَ قِرَاءَتِهَا ، فَأَطْلَقَ الاسْمَ عَلَى مَا تَوَلَّدَ مِنْهُ وَهُوَ الثَّوَابُ ، كَمَا يُطْلَقُ اسْمُ السُّورَةِ نَفْسِهَا عَلَيْهِ . وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَبَرِ أَبِي أُمَامَةَ أَرَادَ بِهِ ثَوَابَ الْقُرْآنِ ، وَثَوَابَ الْبَقَرَةِ ، وَآلِ عِمْرَانَ ، إِذِ الْعَرَبُ تُطْلِقُ فِي لُغَتِهَا اسْمَ مَا تَوَّلَدَ مِنَ الشَّيْءِ عَلَى نَفْسِهِ كَمَا ذَكَرْنَاهُ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” بے شک قرآن میں ایک سورۃ ہے، جس کی تیس آیات ہیں۔ یہ سورۃ اپنے حافظ کے لئے دعائے مغفرت کرتی رہے گی، یہاں تک کہ اس شخص کی مغفرت ہو جائے گی۔ (وہ سورت یہ ہے) «تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ»، تو ابواسامہ نے ان کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا: جی ہاں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” وہ اپنے ساتھی (یعنی باقاعدگی سے پڑھنے والے یا حافظ) کیلئے دعاء مغفرت کرتی ہیں “ اس سے مراد ان کی قرآءت کا ثواب ہے، تو یہاں اسم کا اطلاق، اس سے حاصل ہونے والے نتیجے پر کیا گیا ہے اور وہ ثواب ہے۔ جس طرح سورت کے اسم کا اطلاق اس کے نفس وجود پر بھی ہوتا ہے۔ اس طرح سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے مراد قرآن، سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران پڑھنے کا ثواب ہے کیونکہ عرب اپنے محاور ے میں (بعض اوقات) کسی اسم کا اطلاق اس سے حاصل ہونے والے نتیجے پر کرتے ہیں جیسا کہ ہم پہلے یہ ذکر کر چکے ہیں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” وہ اپنے ساتھی (یعنی باقاعدگی سے پڑھنے والے یا حافظ) کیلئے دعاء مغفرت کرتی ہیں “ اس سے مراد ان کی قرآءت کا ثواب ہے، تو یہاں اسم کا اطلاق، اس سے حاصل ہونے والے نتیجے پر کیا گیا ہے اور وہ ثواب ہے۔ جس طرح سورت کے اسم کا اطلاق اس کے نفس وجود پر بھی ہوتا ہے۔ اس طرح سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے مراد قرآن، سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران پڑھنے کا ثواب ہے کیونکہ عرب اپنے محاور ے میں (بعض اوقات) کسی اسم کا اطلاق اس سے حاصل ہونے والے نتیجے پر کرتے ہیں جیسا کہ ہم پہلے یہ ذکر کر چکے ہیں۔