کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قرآن کی تلاوت کا بیان - شیطانوں سے احتراز کا ذکر، ہم اللہ سے ان سے پناہ مانگتے ہیں، آیت الکرسی پڑھ کر
حدیث نمبر: 784
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ كَانَ لَهُمْ جَرِينٌ فِيهِ تَمْرٌ ، وَكَانَ مِمَّا يَتَعَاهَدُهُ فَيَجِدُهُ يَنْقُصُ ، فَحَرَسَهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَإِذَا هُوَ بِدَابَّةٍ كَهَيْئَةِ الْغُلامِ الْمُحْتَلِمِ . قَالَ : فَسَلَّمْتُ فَرَدَّ السَّلامَ ، فَقُلْتُ : مَا أَنْتَ ، جِنٌّ أَمْ إِنْسٌ ؟ فَقَالَ : جِنٌّ ، فَقُلْتُ : نَاوِلْنِي يَدَكَ ، فَإِذَا يَدُ كَلْبٍ وَشَعْرُ كَلْبٍ ، فَقُلْتُ : هَكَذَا خُلِقَ الْجِنُّ ، فَقَالَ : لَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنُّ أَنَّهُ مَا فِيهِمْ مَنْ هُوَ أَشَدُّ مِنِّي ، فَقُلْتُ : مَا يَحْمِلُكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّكَ رَجُلٌ تُحِبُّ الصَّدَقَةَ ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُصِيبَ مِنْ طَعَامِكَ ، قُلْتُ : فَمَا الَّذِي يَحْرِزُنَا مِنْكُمْ ؟ فَقَالَ : هَذِهِ الآيَةُ ، آيَةُ الْكُرْسِيِّ ، قَالَ : فَتَرَكْتُهُ . وَغَدَا أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَ الْخَبِيثُ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : اسْمُ ابْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ هُوَ الطُّفَيْلُ بْنُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ .
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے صاحب زادے یہ بات بیان کرتے ہیں: ان کے والد نے انہیں یہ بات بتائی ہے ان کا ایک گودام تھا جس میں کھجوریں موجود تھیں۔ وہ اس کا دھیان رکھتے تھے، لیکن کھجوریں کم ہوتی جا رہی تھیں۔ ایک رات وہ اس کا پہرہ دے رہے تھے، تو وہاں ایک نوجوان لڑکے کی طرح کا جانور آیا۔ سیدنا ابی کہتے ہیں: میں نے سلام کیا، تو اس نے مجھے سلام کا جواب دیا۔ میں نے دریافت کیا: تم کون ہو، تم جن ہو یا انسان ہو؟ اس نے کہا: میں جن ہوں میں نے کہا: تم اپنا ہاتھ میری طرف بڑھاؤ، تو اس کا ہاتھ کتے کی مانند تھا۔ اس کے بال کتے کے جیسے تھے میں نے کہا: کیا جنوں کی تخلیق اس طرح ہوتی ہے۔ اس نے کہا: جن یہ بات جانتے ہیں کہ ان میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو مجھ سے زیادہ طاقت ور ہیں میں نے کہا: تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ اس نے کہا: مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ ایک ایسے شخص ہیں جو صدقہ کرنے کو پسند کرتے ہیں، تو میری یہ خواہش ہوئی کہ میں بھی آپ کے اناج میں سے کچھ حاصل کر لوں۔ میں نے دریافت کیا: تم لوگوں سے کون سی چیز ہمیں محفوظ رکھ سکتی ہے، تو اس نے کہا: یہ آیت یعنی آیت الکرسی سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اسے چھوڑ دیا۔ اگلے دن سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس خبیث نے ٹھیک کہا: ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کا نام طفیل بن ابی بن کعب ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 784
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «الصحيحة» (3245). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط ابن أبي بن كعب - واسمه عبد الله كما جاء مصرحا به في سند أبي الكبير - لم يوثقه أحد، وما روى عنه غير يحيى بن أبي كثير، وقول المؤلف بإثره: إنه الطفيل بن أبي بن كعب مما انفرد به، ولم يتابع عليه، وباقي رجاله ثقات رجال الشيخين غير عبد الرحمن بن إبراهيم فمن رجال البخاري.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 781»