کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ فاتحہ الکتاب اور سورہ بقرہ کی آخری آیات پڑھنے والے کو اس کی قراءت میں جو مانگتا ہے وہ دیا جاتا ہے
حدیث نمبر: 778
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا جِبْرِيلُ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ سَمِعَ نَقِيضًا مِنْ فَوْقِهِ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، وَقَالَ : " لَقَدْ فُتِحَ بَابٌ مِنَ السَّمَاءِ مَا فُتِحَ قَطُّ ، فَأَتَاهُ مَلَكٌ ، فَقَالَ لَهُ : أَبْشِرْ بِسُورَتَيْنِ أُوتِيتَهُمَا لَمْ يُعْطَهُمَا نَبِيٌّ كَانَ قَبْلَكَ : فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَخَوَاتِيمِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ، لَنْ تَقْرَأَ مِنْهَا حَرْفًا إِلا أُعْطِيتَهُ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ” ایک مرتبہ جبرائیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے۔ اسی دوران انہوں نے اوپر سے (آسمان کا دروازہ) کھلنے کی آواز سنی انہوں نے سر اٹھایا اور بولے: آج آسمان کا ایسا دروازہ کھلا ہے، جو اس سے پہلے کبھی نہیں کھلا پھر ایک فرشتہ ان کے پاس آیا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ کو دو ایسی سورتوں کی خوشخبری قبول ہو، جو آپ سے پہلے کسی اور نبی کو نہیں دی گئی ہیں، وہ سورہ فاتحہ اور سورہ البقرہ کی آخری آیات ہیں۔ آپ ان کا جو بھی حرف تلاوت کریں گے آپ کو وہ چیز مل جائے گی ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 778
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، معاوية بن هشام وإن كان فيه كلام ينزل فيه عن رتبة الصحة، قد توبع عليه، وباقي رجاله ثقات.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 775»