کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ فاتحہ الکتاب قرآن کی عظیم ترین سورت ہے
حدیث نمبر: 777
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى ، قَالَ : كُنْتُ أُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ أُجِبْهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي . فَقَالَ : " أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ : اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ سورة الأنفال آية 24 ؟ " ثُمَّ قَالَ : " أَلا أُعَلِّمُكَ سُورَةً هِيَ أَعْظَمُ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ ؟ " فَقُلْتُ : بَلَى ، فَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي ، وَالْقُرْآنُ الَّذِي أُوتِيتُهُ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ أَعْظَمُ سُورَةٍ " أَرَادَ بِهِ فِي الأَجْرِ ، لا أَنَّ بَعْضَ الْقُرْآنِ أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ . وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ الْمُعَلَّى اسْمُهُ : رَافِعُ بْنُ الْمُعَلَّى بْنِ لَوْذَانَ بْنِ حَارِثَةَ ، مَاتَ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسَبْعِينَ .
ابوسعید بن معلی بیان کرتے ہیں: میں مسجد میں نماز ادا کر رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دی میں آپ کی طرف نہیں گیا (جب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا)، تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نماز ادا کر رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نہیں فرمایا ہے: ” جب اللہ اور اس کا رسول تم کو بلائیں، تو تم ان کی طرف جاؤ ۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی سورۃ کی تعلیم نہ دوں جو قرآن میں موجود سب سے عظیم سورت ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الحمدلله رب العلمین یہی سبع مثانی ہے اور وہ قرآن ہے، جو مجھے دیا گیا ہے ۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” یہ سب سے عظیم سورت ہے “ اس سے مراد اجر کے اعتبار سے (سب سے عظیم ہونا) ہے۔ ایسا نہیں ہے، قرآن کا ایک حصہ دوسرے سے افضل ہو۔ سیدنا ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ کا نام رافع بن معلی بن لوذان بن حارثہ ہے۔ ان کا انتقال 74 ہجری میں ہوا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” یہ سب سے عظیم سورت ہے “ اس سے مراد اجر کے اعتبار سے (سب سے عظیم ہونا) ہے۔ ایسا نہیں ہے، قرآن کا ایک حصہ دوسرے سے افضل ہو۔ سیدنا ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ کا نام رافع بن معلی بن لوذان بن حارثہ ہے۔ ان کا انتقال 74 ہجری میں ہوا۔