کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قرآن کی تلاوت کا بیان - فاتحہ الکتاب کی تقسیم کا طریقہ بندے اور اس کے رب کے درمیان بیان کرنے کا ذکر
حدیث نمبر: 776
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَوْدُودٍ أَبُو عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَلَّى صَلاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، فَهِيَ خِدَاجٌ ، فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ " قَالَ : ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، إِنِّي أَحْيَانًا أَكُونُ وَرَاءَ الإِمَامِ ، قَالَ : فَغَمَزَ ذِرَاعِي ، ثُمَّ قَالَ : يَا فَارِسِيُّ ، اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : قُسِمَتِ الصَّلاةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عِبَادِي نِصْفَيْنِ ، فَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَنِصْفُهَا لِي ، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ ، إِذَا قَالَ الْعَبْدُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 ، قَالَ اللَّهُ : حَمِدَنِي عَبْدِي ، وَإِذَا قَالَ : الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 يَقُولُ اللَّهُ : أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي ، وَإِذَا قَالَ : مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4 ، قَالَ : مَجَّدَنِي عَبْدِي ، وَهَذِهِ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي ، يَقُولُ : إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سورة الفاتحة آية 5 ، وَمَا بَقِيَ فَلِعَبْدِي ، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ ، اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 6 - 7 . فَهَذَا لِعَبْدِي ، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو الْمُغِيرَةِ : عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ الْخَوْلانِيُّ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جو شخص نماز ادا کرتا ہے اور اس میں سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا، تو وہ نماز ناقص ہوتی ہے وہ ناقص ہوتی ہے وہ مکمل نہیں ہوتی ۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے کہا: اے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! بعض اوقات میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے میرے بازو پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اے فارسی! تم دل میں اسے پڑھ لیا کرو، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز (یعنی سورۃ فاتحہ کی تلاوت کو) اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر لیا ہے، اس کا نصف حصہ میرے بندے کے لئے ہے اور نصف حصہ میرے لئے ہے اور میرے بندے نے جو مانگا ہے وہ اسے ملے گا، جب بندہ «الحمد لله رب العلمين » پڑھتا ہے، تواللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری حمد بیان کی، جب بندہ الرحمن الرحیم پڑھتا ہے، تواللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تعریف کی، جب بندہ «ملك يوم الدين» پڑھتا ہے، تواللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی اور یہ (یہ بعد والی آیت) میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے وہ کہتا ہے۔ ” «اياك نعبد و اياك نستعين »“ اور اس کے بعد والا باقی حصہ میرے بندے کے لئے ہے اور میرا بندہ جو مانگے گا وہ اسے ملے گا وہ یہ پڑھتا ہے: ” تو صراط مستقیم کی طرف ہمیں ہدایت دے ان لوگوں کے راستے کی طرف جن پر، تو نے اپنا انعام کیا ہے، نہ کہ ان لوگوں کے راستے کی طرف جن پر غضب نازل کیا گیا اور جو گمراہ ہوئے ۔“ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے)، تو یہ چیز میرے بندے کو ملے گی اور میرے بندے نے جو مانگا ہے وہ اسے ملے گا ۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابومغیرہ نامی راوی کا نام عبدالقدوس بن حجاج خولانی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 776
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صفة الصلاة» (ص 97): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، ابن ثوبان: واسمه عبد الرحمن بن ثابت العنسي الدمشقي - فيه ضعف خفيف - فهو ممن يكتب حديثه للمتابعة، وقد توبع عليه، وباقي رجاله ثقات.
تخریج حدیث «0»