کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قرآن کی تلاوت کا بیان - مومن اور فاجر کی مثال کا ذکر جب وہ قرآن پڑھتے ہیں
حدیث نمبر: 770
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الأُتْرُجَّةِ ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلا رِيحَ لَهَا ، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ ، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي لا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ ، طَعْمُهَا مُرٌّ ، وَلا رِيحَ لَهَا " .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” وہ مومن جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے اس کی مثال ناشپاتی کی طرح ہے، جس کا ذائقہ بھی میٹھا ہوتا ہے اور خوشبو بھی پاکیزہ ہوتی ہے اور وہ مومن جو قرآن کی تلاوت نہیں کرتا۔ اس کی مثال کھجور کی طرح ہے، جس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے، لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی اور وہ فاجر (یعنی منافق یا کافر) شخص جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے اس کی مثال ریحانہ کی مانند ہے، جس کی خوشبو عمدہ ہوتی ہے، لیکن ذائقہ کڑوا ہوتا ہے اور وہ فاجر (یعنی کافر یا منافق) شخص جو قرآن کی تلاوت نہیں کرتا۔ اس کی مثال حنظلہ کی مانند ہے، جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس کی خوشبو بھی نہیں ہوتی ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 770
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «نقد الكتاني» (ص 43)، «الصحيحة» (3214): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 767»