کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے قرآن پڑھنے پر سکینت نازل ہوتی ہے
حدیث نمبر: 769
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ : إِنَّ رَجُلا كَانَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْكَهْفِ وَدَابَّتُهُ مُوثَقَةٌ ، فَجَعَلَتْ تَنْفِرُ ، تَرَى مِثْلَ الضَّبَابَةِ أَوِ الْغَمَامَةِ قَدْ غَشِيَتْهُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " اقْرَأْ يَا فُلانُ ، تِلْكَ السَّكِينَةُ أُنْزِلَتْ عِنْدَ الْقُرْآنِ ، أَوْ لِلْقُرْآنِ " .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص سورۃ کہف کی تلاوت کر رہا تھا۔ اس کا جانور بندھا ہوا تھا۔ اس جانور نے اچھلنا شروع کر دیا۔ اس شخص نے ایک بادل دیکھا جس نے اسے ڈھانپ لیا تھا وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس بات کا تذکرہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اے فلاں! تم تلاوت کرتے رہتے یہ سکینت تھی جو قرآن کے پاس (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) قرآن کی وجہ سے نازل ہو رہی تھی ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 769
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح سنن الترمذي» (3058): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 766»