کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ فرشتے ان لوگوں کے گرد گھیرا بناتے ہیں جو اللہ کی کتاب پڑھتے اور آپس میں اس کا مطالعہ کرتے ہیں، اور اس وقت رحمت انہیں گھیر لیتی ہے
حدیث نمبر: 768
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ أَبُو عَمْرٍو بِنَسَا ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ ابْنُ زَنْجُوَيْهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا جَلَسَ قَوْمٌ فِي مَسْجِدٍ مِنْ مَسَاجِدِ اللَّهِ ، يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ ، وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ ، إِلا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ ، وَحَفَّتْهُمُ الْمَلائِكَةُ ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ . وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جب بھی کچھ لوگاللہ تعالیٰ کی مسجد میں بیٹھ کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں۔ آپس میں ایک دوسرے کو اس کا درس دیتے ہیں، تو ان لوگوں پر سکینت نازل ہوتی ہے رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے۔ فرشتے انہیں ڈھانپ لیتے ہیں اوراللہ تعالیٰ اپنے پاس موجود (فرشتوں کے سامنے) ان لوگوں کا ذکر کرتا ہے اور جس شخص کا عمل اسے سست کر دے اس کا نسب اسے تیز نہیں کر سکتا ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 768
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1308): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، محاضر بن المورع روى له البخاري تعليقاً ومسلم حديثا واحدا متابعة، وهو صدوق، وقد توبع، وباقي رجاله ثقات رجال الشيخين غير حمد بن زنجويه، فقد روى له أبو داود والنسائي، وهو ثقة.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 765»