کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قرآن کی تلاوت کا بیان - اللہ جل وعلا کے فضل کا ذکر کہ قرآن میں ماہر کے لیے وہ سفیروں کے ساتھ ہوتا ہے اور جسے قراءت میں دشواری ہو اس کے لیے اجر دوگنا ہوتا ہے
حدیث نمبر: 767
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ مَاهِرٌ بِهِ ، مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ ، وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ وَهُوَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ لَهُ أَجْرَانِ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” جو شخص قرآن کی تلاوت کرتا ہے اور مہارت کے ساتھ اس کی تلاوت کرتا ہے، تو وہ معزز نیک (فرشتوں) کے ساتھ ہو گا اور جو شخص قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے مشکل کا سامنا کرتا ہے اس کے لئے دو گنا اجر ہے ۔“