کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قرآن کی تلاوت کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ قرآن کی قراءت پر باقاعدگی سے اسے یاد رکھنا چاہیے
حدیث نمبر: 763
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ ، وَعُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ ، فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهَا ، وَبِئْسَمَا لأَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ : نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الاسْتِطَاعَةَ مَعَ الْفِعْلِ لا قَبْلَهُ .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” قرآن کو یاد کرتے رہو، کیونکہ یہ آدمی کے سینے سے اس سے زیادہ تیزی سے نکلتا ہے، جتنی تیزی سے جانور اپنی رسی چھڑا کر نکلتا ہے اور کسی شخص کا یہ کہنا بہت برا ہے کہ میں فلاں، فلاں آیت کو بھول گیا ہوں، بلکہ وہ اسے بھلا دی گئی ہے ۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس حدیث میں اس بات کی دلیل موجود ہے، استطاعت فعل کے ہمراہ ہو گی اس سے پہلے نہیں ہو گی۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس حدیث میں اس بات کی دلیل موجود ہے، استطاعت فعل کے ہمراہ ہو گی اس سے پہلے نہیں ہو گی۔