کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قرآن کی تلاوت کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ قرآن کو یاد رکھنا اور اس کی حفاظت کرنا چاہیے تاکہ اسے بھولنے اور اس کے فرار ہونے سے بچا جائے
حدیث نمبر: 762
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بِفَمِّ الصِّلْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ ، فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهَا ، وَبِئْسَمَا لأَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ : نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ ، مَا نَسِيَ ، وَلَكِنْ نُسِّيَ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَمْ يُسْنِدْ سَعِيدٌ عَنِ الأَعْمَشِ غَيْرَ هَذَا .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” قرآن کو یاد کرتے رہو، کیونکہ یہ آدمی کے سینے سے اس سے زیادہ تیزی سے نکلتا ہے جتنی تیزی سے کوئی جانور اپنی رسی سے نکلتا ہے اور کسی شخص کا یہ کہنا بہت برا ہے کہ میں فلاں، فلاں آیت کو بھول گیا ہوں، وہ بھولا نہیں ہے، بلکہ اسے بھلا دی گئی ہے ۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سعید نے اعمش کے حوالے سے اس روایت کے علاوہ کوئی اور روایت ” مسند “ حدیث کے طور پر روایت نہیں کی۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سعید نے اعمش کے حوالے سے اس روایت کے علاوہ کوئی اور روایت ” مسند “ حدیث کے طور پر روایت نہیں کی۔