کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قرآن کی تلاوت کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ آدمی جب قرآن پڑھے تو اس کی قرأت سے اللہ اور آخرت کو چاہے، نہ کہ دنیا میں ثواب کی تعجیل کرے
حدیث نمبر: 760
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَذَكَرَ ابْنُ سَلْمٍ آخَرَ مَعَهُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ وَفَاءِ بْنِ شُرَيْحٍ الصَّدَفِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَنَحْنُ نَقْتَرِئُ ، فَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ ، كِتَابُ اللَّهِ وَاحِدٌ ، وَفِيكُمُ الأَحْمَرُ ، وَفِيكُمُ الأَسْوَدُ ؟ ! اقْرَؤُوهُ قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَهُ أَقْوَامٌ يُقَوِّمُونَهُ كَمَا يُقَوَّمُ أَلْسِنَتُهُمْ ، يَتَعَجَّلُ أَحَدُهُمْ أَجْرَهُ وَلا يَتَأَجَّلُهُ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : كَذَا وَقَعَ السَّمَاعُ ، وَإِنَّمَا هُوَ السَّهْمُ .
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ہم اس وقت قرأت سیکھ رہے تھے آپ نے فرمایا: ” ہر طرح کی حمد،اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے۔اللہ تعالیٰ کی کتاب ایک ہے، تمہارے اندر سفید فام بھی ہیں اور سیاہ فام بھی ہیں، تم لوگ اس کی قرأت سیکھ لو اس سے پہلے کہ ایسے لوگ اس کی قرأت سیکھیں جو اس کی یوں قیمت لگوائیں گے جس طرح وہ اپنی زبانوں (دراصل یہاں لفظ سامان ہونا چاہئے) کی قیمت لگواتے ہیں۔ اور وہ لوگ اس کا معاوضہ جلدی (یعنی دنیا میں ہی) وصول کریں گے۔ وہ اسے تاخیر سے (یعنی آخرت میں) وصول کرنا نہیں چاہیں گے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سماع اسی طرح واقع ہوا ہے، لیکن اصل فظ (السنتهم نہیں ہے بلکہ) السهم (یعنی حصہ) ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سماع اسی طرح واقع ہوا ہے، لیکن اصل فظ (السنتهم نہیں ہے بلکہ) السهم (یعنی حصہ) ہے۔