کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ قرآن تین دن سے کم میں ختم کیا جائے کیونکہ اس کا استعمال تدبر اور تفہم کے قریب تر ہوتا ہے
حدیث نمبر: 758
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَفْقَهُ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلاثٍ " .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جو شخص تین دن سے کم میں اس کی (یعنی پورے قرآن کی) تلاوت کر لیتا ہے اس نے اسے سمجھ ہی نہیں۔ (یا وہ شخص سمجھ بوجھ ہی نہیں رکھتا) ۔“
حدیث نمبر: 759
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اقْرَؤُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ ، فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ ، فَقُومُوا عَنْهُ " .
سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” تم قرآن کی تلاوت اس وقت تک کرتے رہو، جب تک تمہارے دل اس کی طرف مائل رہیں اور جب طبیعت منتشر ہونے لگے، تو تم (اس کی تلاوت ختم کر کے) اٹھ جاؤ ۔“