کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قرآن کی تلاوت کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ قرآن پڑھنے والے کو اسے سات دن میں ختم کرنا چاہیے، اس سے کم تعداد میں نہیں
حدیث نمبر: 757
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَكِيمِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : حَفِظْتُ الْقُرْآنَ فَقَرَأْتُ بِهِ فِي لَيْلَةٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَأْهُ فِي شَهْرٍ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي ، قَالَ : " اقْرَأْهُ فِي عَشْرٍ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي ، قَالَ : " اقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي ، قَالَ : فَأَبَى .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے قرآن کو یاد کر لیا اور میں نے ایک رات میں اس کی تلاوت کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم ایک مہینے میں اس کی تلاوت کرو۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے موقع دیجئے کہ میں اپنی قوت اور اپنی جوانی سے فائدہ حاصل کر لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دس دن میں اس کی تلاوت کر لو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے موقع دیجئے کہ میں اپنی قوت اور اپنی جوانی سے فائدہ حاصل کر لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سات دن میں اس کی تلاوت کر لو۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے موقع دیجئے کہ میں اپنی قوت اور اپنی جوانی سے فائدہ حاصل کر لوں۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 757
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده كسابقة.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 754»