کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی کا ہر سات دن میں قرآن مکمل پڑھنے پر اقتصار کرنا
حدیث نمبر: 756
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَكِيمِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : جَمَعْتُ الْقُرْآنَ فَقَرَأْتُ بِهِ فِي لَيْلَةٍ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " اقْرَأْهُ فِي كُلِّ شَهْرٍ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَمِنْ شَبَابِي ، فَقَالَ : " اقْرَأْهُ فِي كُلِّ عِشْرِينَ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَمِنْ شَبَابِي ، قَالَ : " اقْرَأْهُ فِي عَشْرٍ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَمِنْ شَبَابِي ، قَالَ : " اقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَمِنْ شَبَابِي ، فَأَبَى .
سیدنا عبدالله بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نے قرآن کو جمع کیا اور ایک ہی رات میں اس کی تلاوت کر لی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی، تو آپ نے ارشاد فرمایا: تم مہینے میں پورے قرآن کی تلاوت کیا کرو۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے موقع دیجئے کہ میں اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ حاصل کر لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بیس دن میں پورے قرآن کی تلاوت کر لیا کرو۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے موقع دیجئے کہ میں اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ حاصل کر لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دس دن میں اس کی تلاوت کر لیا کرو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے موقع دیجئے کہ میں اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ حاصل کر لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سات دن میں اس کی تلاوت کر لیا کرو۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے موقع دیجئے کہ میں اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ حاصل کر لوں، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔