کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اس امت میں قرآن کس طرح پڑھا جاتا ہے
حدیث نمبر: 755
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ أَبِي عَمْرٍو الْخَوْلانِيُّ ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ التُّجِيبِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يَكُونُ خَلْفٌ بَعْدَ سِتِّينَ سَنَةً أَضَاعُوا الصَّلاةَ ، وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ ، فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا ، ثُمَّ يَكُونُ خَلْفٌ يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ لا يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ ، وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثَلاثَةٌ : مُؤْمِنٌ ، وَمُنَافِقٌ ، وَفَاجِرٌ " . قَالَ بَشِيرٌ : فَقُلْتُ لِلْوَلِيدِ : مَا هَؤُلاءِ الثَّلاثَةُ ؟ قَالَ : الْمُنَافِقُ كَافِرٌ بِهِ ، وَالْفَاجِرُ يَتَأَكَّلُ بِهِ ، وَالْمُؤْمِنُ يُؤْمِنُ بِهِ .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” ساٹھ سال کے بعد ایسے لوگ آ جائیں گے، جو نماز کو ضائع کریں گے، خواہشات کی پیروی کریں گے، وہ عنقریب جہنم میں جائیں گے پھر اس کے بعد وہ لوگ آ جائیں گے، جو قرآن کی تلاوت کریں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ قرآن کو تین طرح کے لوگ پڑھتے ہیں، مومن، منافق اور فاجر ۔“
بشیر نامی راوی کہتے ہیں: میں نے ولید سے دریافت کیا: یہ تین لوگ کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: منافق سے مراد وہ شخص ہے، جو قرآن کا انکار کرتا ہو، فاجر سے مراد وہ شخص ہے، جو اس کا معاوضہ وصول کرتا ہو اور مومن سے مراد وہ شخص ہے، جو اس پر ایمان رکھتا ہو ۔“
بشیر نامی راوی کہتے ہیں: میں نے ولید سے دریافت کیا: یہ تین لوگ کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: منافق سے مراد وہ شخص ہے، جو قرآن کا انکار کرتا ہو، فاجر سے مراد وہ شخص ہے، جو اس کا معاوضہ وصول کرتا ہو اور مومن سے مراد وہ شخص ہے، جو اس پر ایمان رکھتا ہو ۔“