کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قرآن کی تلاوت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ہمارے تأول کردہ ابو ہریرہ کی دو خبروں کی صحت کی دلیل ہے
حدیث نمبر: 753
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي وَفِي صَدْرِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ مِنَ الْبُكَاءِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ التَّحَزُّنَ الَّذِي أَذِنَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا فِيهِ بِالْقُرْآنِ ، وَاسْتَمَعَ إِلَيْهِ هُوَ التَّحَزُّنُ بِالصَّوْتِ مَعَ بِدَايَتِهِ وَنِهَايَتِهِ ، لأَنَّ بَدَاءَتَهُ هُوَ الْعَزْمُ الصَّحِيحُ عَلَى الانْقِلاعِ عَنِ الْمَزْجُورَاتِ ، وَنِهَايَتُهُ وُفُورُ التَّشْمِيرِ فِي أَنْوَاعِ الْعِبَادَاتِ ، فَإِذَا اشْتَمَلَ التَّحَزُّنُ عَلَى الْبِدَايَةِ الَّتِي وَصَفْتُهَا ، وَالنِّهَايَةُ الَّتِي ذَكَرْتُهَا ، صَارَ الْمُتَحَزِّنُ بِالْقُرْآنِ كَأَنَّهُ قَذَفَ بِنَفْسِهِ فِي مِقْلاعِ الْقُرْبَةِ إِلَى مَوْلاهُ ، وَلَمْ يَتَعَلَّقْ بِشَيْءٍ دُونَهُ .
مطرف بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا۔ گریہ و زاری کی وجہ سے آپ کے سینے سے یوں آواز آ رہی تھی جیسے ہنڈیا ابلتی ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے، جس دردمندانہ تلاوت کواللہ تعالیٰ سنتا ہے اور پوری توجہ سے سنتا ہے وہ ایسا درد ہے، جو آواز میں آغاز اور اختتام کے ہمراہ ہو کیونکہ آغاز یہ ہوتا ہے، اس بات کا پختہ ارادہ کیا جائے کہ ممنوعہ چیزوں سے لاتعلقی اختیار کی جائے گی اور انجام یہ ہے، مختلف نوعیت کی عبادات میں بھرپور کوشش کی جائے گی، تو جب وہ درد آغاز میں اس کے مطابق ہو جو ہم نے بیان کیا ہے اور اختتام اس کے مطابق ہو جو میں نے ذکر کیا ہے، تو قرآن کے ہمراہ دردمند ہونے والا شخص گویا اپنے آپ کو اپنے پروردگار کے قرب میں ڈال دیتا ہے اور وہ اس کے علاوہ کسی اور چیز سے متعلق نہیں ہوتا۔