کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ اس شخص کی طرف سنتا ہے جو اپنی آواز کو قرآن کے ساتھ حزین کرتا ہے
حدیث نمبر: 752
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ كَأَذَنِهِ لِلَّذِي يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ ، يَجْهَرُ بِهِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ : " مَا أَذِنَ اللَّهُ " ، يُرِيدُ : مَا اسْتَمَعَ اللَّهُ لِشَيْءٍ ، " كَأَذَنِهِ " : كَاسْتِمَاعِهِ " لِلَّذِي يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ ، يَجْهَرُ بِهِ " ، يُرِيدُ : يَتَحَزَّنُ بِالْقِرَاءَةِ عَلَى حَسَبِ مَا وَصَفْنَا نَعْتَهُ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ کسی بھی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا، جتنی توجہ سے قرآن کی خوش الحانی سے کی جانے والی تلاوت کو سنتا ہے، جو بلند آواز میں کی جاتی ہے ۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ما اذن الله سے مراد یہ ہے یعنیاللہ تعالیٰ کسی بھی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا۔ کاذنہ یعنی جس طرح وہ سنتا ہے اس شخص کو جو شخص الحانی سے قرآن کی تلاوت کرے، جو بلند آواز میں اس کی تلاوت کرتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے: وہ دردمندانہ انداز میں قرات کرے جو اس کے مطابق ہو، جس کی صفت کو ہم نے بیان کیا ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ما اذن الله سے مراد یہ ہے یعنیاللہ تعالیٰ کسی بھی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا۔ کاذنہ یعنی جس طرح وہ سنتا ہے اس شخص کو جو شخص الحانی سے قرآن کی تلاوت کرے، جو بلند آواز میں اس کی تلاوت کرتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے: وہ دردمندانہ انداز میں قرات کرے جو اس کے مطابق ہو، جس کی صفت کو ہم نے بیان کیا ہے۔