کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ اس پر عتاب کیا جائے جو سات حروف میں سے کسی ایک حرف پر پڑھے
حدیث نمبر: 747
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْخَطِيبُ بِالأَهْوَازِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةَ الرَّحْمَنِ ، فَخَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ عَشِيَّةً ، فَجَلَسَ إِلَيَّ رَهْطٌ ، فَقُلْتُ لِرَجُلٍ : اقْرَأْ عَلَيَّ . فَإِذَا هُوَ يَقْرَأُ أَحْرُفًا لا أَقْرَؤُهَا ، فَقُلْتُ : مَنْ أَقْرَأَكَ ؟ فَقَالَ : أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَانْطَلَقْنَا حَتَّى وَقَفْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : اخْتَلَفْنَا فِي قِرَاءَتِنَا . فَإِذَا وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ تَغَيُّرٌ ، وَوَجَدَ فِي نَفْسِهِ حِينَ ذَكَرْتُ الاخْتِلافَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ قَبْلَكُمْ بِالاخْتِلافِ " ، فَأَمَرَ عَلِيًّا ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ كَمَا عُلِّمَ ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ قَبْلَكُمُ الاخْتِلافُ ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا وَكُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يَقْرَأُ حَرْفًا لا يَقْرَأُ صَاحِبُهُ .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورہ رحمن پڑھنا سکھائی، ایک دن میں شام کے وقت مسجد میں آیا، تو کچھ لوگ میرے پاس آ کر بیٹھ گئے میں نے ان میں سے ایک شخص سے کہا: تم میرے سامنے تلاوت کرو، تو اس نے کچھ الفاظ ایسے طریقے سے تلاوت کئے جنہیں میں نے نہیں پڑھا تھا۔ میں نے دریافت کیا: تمہیں کس نے یہ تلاوت سکھائی ہے۔ اس نے جواب دیا: مجھے اللہ کے رسول نے یہ تلاوت سکھائی ہے، پھر ہم لوگ روانہ ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے میں نے عرض کی: ہمارا قرأت کے بارے میں اختلاف ہو گیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک یہ سن کر متغیر ہو گیا جب میں نے اختلاف کا تذکرہ کیا، تو آپ کو اس سے بہت افسوس ہوا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تم سے پہلے لوگ اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہو گئے تھے پھر آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، تو انہوں نے ارشاد فرمایا: بیشک اللہ کے رسول تم کو یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم میں سے ہر ایک شخص اسی طریقے کے مطابق تلاوت کرے جس طرح اسے تعلیم دی گئی ہے، کیونکہ تم سے پہلے لوگ اختلاف کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہو گئے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر ہم لوگ وہاں سے آ گئے ہم میں سے ہر شخص اسی طریقے کے مطابق تلاوت کرتا تھا (جو اس نے سیکھا تھا) اس کا ساتھی اس کے طریقے کے مطابق تلاوت نہیں کرتا تھا۔