کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قرآن کی تلاوت کا بیان - ذکر اس خبر کا جس میں بعض دوسرے لوگوں کی صفت کو بیان کیا گیا ہے تاکہ اس خبر میں مذکور وصف کو واضح کیا جائے
حدیث نمبر: 745
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَانَ الْكِتَابُ الأَوَّلُ يَنْزِلُ مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ ، وَعَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ ، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ مِنْ سَبْعَةِ أَبْوَابٍ ، عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ : زَاجِرٌ ، وَآمِرٌ ، وَحَلالٌ ، وَحَرَامٌ ، وَمُحْكَمٌ ، وَمُتَشَابِهٌ ، وَأَمْثَالٌ ، فَأَحِلُّوا حَلالَهُ ، وَحَرِّمُوا حَرَامَهُ ، وَافْعَلُوا مَا أُمِرْتُمْ بِهِ ، وَانْتَهُوا عَمَّا نُهِيتُمْ عَنْهُ ، وَاعْتَبِرُوا بِأَمْثَالِهِ ، وَاعْمَلُوا بِمُحْكَمِهِ ، وَآمِنُوا بِمُتَشَابِهِهِ ، وَقُولُوا : آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا " .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” پہلے ایک کتاب ایک دروازے سے ایک حرف کے مطابق نازل ہوتی تھی، لیکن قرآن کو سات دروازوں سے سات حروف کے مطابق نازل کیا گیا (وہ یہ ہیں) ” تنبیہ کرنے والا، حکم دینے والا، حلال، حرام، محکم، متشابہہ اور امثال “ تو تم لوگ اس کے حلال کو حلال قرار دو اس کے حرام کو حرام قرار دو، جس چیز کا تمہیں اس میں حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کرو اور جس چیز سے تمہیں منع کیا گیا ہے اس سے باز آ جاؤ۔ اس کی مثالوں سے عبرت حاصل کرو اس کے حکم پر عمل کرو اس کے متشابہ پر ایمان لاؤ اور یہ کہو کہ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ سارے کا سارا ہمارے پروردگار کی طرف سے آیا ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 745
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف بزيادة: «زاجر ... » إلخ - «الصحيحة» (587). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجال ثقات، إلا أنه منقطع، أبو سلمة بن عبد الرحمن لم يدرك عبد اللَّه بن مسعود، قال الحافظ في «الفتح» 9/ 29: قال ابن عبد البر: هذا حديث لا يثبت، لأنه من رواية أبي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابن مسعود، ولم يلق ابن مسعود. ثم قال: وصححه ابن حبان والحاكم 1/ 553، وفي تصحيحه نظر، لانقطاعه بين أبي سلمة وابن مسعود. وقد أخرجه البيهقي من وجه آخر عن الزهري عن أبي سلمة مرسلاً، وقال: هذا مرسل جيد.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 742»