کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قرآن کی تلاوت کا بیان - ذکر اس خبر کا جس پر بعض معطلہ نے اہلِ حدیث پر اعتراض کیا، حالانکہ وہ اس کے صحیح مفہوم کو سمجھنے کی توفیق سے محروم رہے
حدیث نمبر: 744
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمَيْدًا ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ يَكْتُبُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَةَ ، وَآلَ عِمْرَانَ عُدَّ فِينَا ذُو شَأْنٍ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُمْلِ عَلَيْهِ : غَفُورًا رَحِيمًا سورة النساء آية 23 فَيَكْتُبُ : " عَفُوًّا غَفُورًا " ، فَيَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اكْتُبْ " ، وَيُمْلِي عَلَيْهِ : عَلِيمًا حَكِيمًا سورة النساء آية 11 ، فَيَكْتُبُ " سَمِيعًا بَصِيرًا " ، فَيَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اكْتُبْ أَيَّهُمَا شِئْتَ " . قَالَ : فَارْتَدَّ عَنِ الإِسْلامِ ، فَلَحِقَ بِالْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ : أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنْ كُنْتُ لأَكْتُبُ مَا شِئْتُ . فَمَاتَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ الأَرْضَ لَنْ تَقْبَلَهُ " ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : فَأَتَيْتُ تِلْكَ الأَرْضَ الَّتِي مَاتَ فِيهَا ، وَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ الَّذِي ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَمَا قَالَ ، فَوَجَدْتُهُ مَنْبُوذًا ، فَقُلْتُ : مَا شَأْنُ هَذَا ؟ فَقَالُوا : دَفَنَّاهُ فَلَمْ تَقْبَلْهُ الأَرْضُ .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کتابت کیا کرتا تھا وہ ہمارے درمیان اہم حیثیت کا مالک تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے املاء کروایا ” مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا “ تو اس نے لکھ دیا ” معاف کرنے والا مغفرت کرنے والا “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ لکھو آپ نے اسے املاء کروایا ” علم والا حکمت والا “ تو اس نے لکھ دیا ” سننے والا دیکھنے والا “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم ان دونوں میں سے جو چاہو لکھ لو ۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر وہ اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہو گیا اور مشرکین کے ساتھ مل گیا۔ اس نے کہا: میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تم سب سے زیادہ جانتا ہوں، کیونکہ میں جو چاہوں وہ لکھ سکتا ہوں پھر وہ فوت ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی، تو آپ نے فرمایا: زمین اسے قبول نہیں کرے گی۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے میں اس سرزمین پر آیا جہاں وہ شخص مرا تھا، تو مجھے پتہ چلا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے، تو میں نے اسے قبر سے باہر پڑا ہوا پایا۔ میں نے دریافت کیا: اس کا کیا معاملہ ہے، تو لوگوں نے بتایا ہم نے اسے دفن کیا تھا، لیکن زمین نے اسے قبول نہیں کیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 744
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق على صحيح الموارد» (1268/ 1521). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير محمد بن عبد الأعلى، فمن رجال مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 741»