کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: پرہیزگاری، توکل (اللہ پر بھروسا) کا بیان - اس بات کا بیان کہ اگر آدمی طاعات میں مجتہد ہو اور اس پر تنگی اور منع کی حالت آئے تو اسے چاہیے کہ اس وقت اس کا دل یکساں رہے
حدیث نمبر: 729
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَقَدْ كَانَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرَوْنَ ثَلاثَةَ أَشْهُرٍ مَا يَسْتَوْقِدُونَ فِيهِ بِنَارٍ ، مَا هُوَ إِلا الْمَاءُ وَالتَّمْرُ ، وَكَانَ حَوْلَنَا أَهْلُ دُورٍ مِنَ الأَنْصَارِ لَهُمْ دَوَاجِنُ فِي حَوَائِطِهِمْ ، فَكَانَ أَهْلُ كُلِّ دَارٍ يَبْعَثُونَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِغَزِيرِ شَاتِهِمْ ، فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْ ذَلِكَ اللَّبَنِ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کو تین مہینے بعض اوقات ایسے گزر جاتے تھے کہ اس دوران وہ آگ نہیں جلا پاتے تھے۔ ان کی خوراک صرف پانی اور کھجور ہوتی تھی۔ ہمارے اردگرد انصار کے کچھ گھرانے تھے جن کے باغات میں ان کی بکریاں ہوتی تھیں، تو بعض اوقات ان میں سے کسی گھرانے کے لوگ اپنی بکریوں کا تازہ دودھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھجوا دیا کرتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دودھ کو پی لیا کرتے تھے۔