کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: پرہیزگاری، توکل (اللہ پر بھروسا) کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ آدمی کو آخرت کے اسباب کے بدلے اس فانی دنیا کے حطام سے کچھ نہ لینا چاہیے جب کوئی حالت پیش آئے
حدیث نمبر: 723
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيًّا فَأَكْرَمَهُ ، فقَالَ لَهُ : " ائْتِنَا " ، فَأَتَاهُ ، فقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَلْ حَاجَتَكَ " ، قَالَ : نَاقَةٌ نَرْكَبُهَا ، وَأَعْنُزٌ يَحْلِبُهَا أَهْلِي ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعَجَزْتُمْ أَنْ تَكُونُوا مِثْلَ عَجُوزِ بَنِي إِسْرَائِيلَ " ؟ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا عَجُوزُ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، قَالَ : " إِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ لَمَّا سَارَ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ مِصْرَ ، ضَلُّوا الطَّرِيقَ ، فقَالَ : مَا هَذَا ؟ فقَالَ عُلَمَاؤُهُمْ : إِنَّ يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلامُ ، لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَخَذَ عَلَيْنَا مَوْثِقًا مِنَ اللَّهِ أَنْ لا نَخْرُجَ مِنْ مِصْرَ حَتَّى نَنْقُلَ عِظَامَهُ مَعَنَا ، قَالَ : فَمَنْ يَعْلَمُ مَوْضِعَ قَبْرِهِ ؟ قَالَ : عَجُوزٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا فَأَتَتْهُ ، فقَالَ : دُلِّينِي عَلَى قَبْرِ يُوسُفَ ، قَالَتْ : حَتَّى تُعْطِيَنِي حُكْمِي ، قَالَ : وَمَا حُكْمُكِ ؟ قَالَتْ : أَكُونُ مَعَكَ فِي الْجَنَّةِ ، فَكَرِهَ أَنْ يُعْطِيَهَا ذَلِكَ ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : أَنْ أَعْطِهَا حُكْمَهَا ، فَانْطَلَقَتْ بِهِمْ إِلَى بُحَيْرَةٍ مَوْضِعِ مُسْتَنْقَعِ مَاءٍ ، فَقَالَتْ : أَنْضِبُوا هَذَا الْمَاءَ ، فَأَنْضَبُوهُ ، فَقَالَتْ : احْتَفِرُوا ، فَاحْتَفَرُوا ، فَاسْتَخْرَجُوا عِظَامَ يُوسُفَ ، فَلَمَّا أَقَلُّوهَا إِلَى الأَرْضِ ، وَإِذَا الطَّرِيقُ مِثْلُ ضَوْءِ النَّهَارِ " .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیہاتی کے پاس تشریف لائے اس نے آپ کی عزت افزائی کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: اسے ہمارے پاس لے کے آؤ وہ آپ کی خدمت میں آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: اپنی حاجت طلب کرو۔ اس نے عرض کی: ایک اونٹنی چاہئے جس پہ ہم سوار ہو سکیں اور کچھ بکریاں چاہئیں جن کا دودھ میرے گھر والے دوہ لیا کریں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم لوگ اتنے عاجز ہو گئے ہو کہ تم بنی اسرائیل کی بوڑھیوں کی مانند بھی نہیں ہو سکتے؟ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! بنی اسرائیل کی بوڑھیوں کا کیا معاملہ ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب سیدنا موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر مصر سے روانہ ہوئے، تو وہ لوگ راستہ بھول گئے۔ سیدنا موسیٰ نے دریافت کیا: اس کی وجہ کیا ہے، تو ان کے علماء نے بتایا: سیدنا یوسف علیہ السلام کے انتقال کا وقت جب قریب آیا تھا، تو انہوں نےاللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم سے یہ پختہ عہد لیا تھا کہ جب ہم لوگ مصر سے نکلیں گے، تو اپنے ساتھ ان کی میت بھی ساتھ لے کے جائیں گے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا: ان کی قبر کی جگہ کو کون جانتا ہے، تو اس شخص نے بتایا بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی ایک بوڑھی عورت سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اس عورت کو بلوایا وہ عورت آپ کے پاس آئی سیدنا موسی علیہ السلام نے کہا: تم سیدنا یوسف علیہ السلام کی قبر کی طرف میری رہنمائی کرو۔ اس عورت نے کہا: جب تک آپ مجھے میرا معاوضہ نہیں دیں گے۔ (میں ایسا نہیں کروں گی) سیدنا موسی علیہ السلام نے دریافت کیا: تمہارا معاوضہ کیا ہے۔ اس نے جواب دیا: یہ کہ میں جنت میں آپ کے ساتھ ہوں، تو سیدنا موسی علیہ السلام کو یہ بات اچھی نہیں لگی کہ اسے یہ بات کہیں، تواللہ تعالیٰ نے سیدنا موسی علیہ السلام کی طرف یہ وحی کی کہ وہ جو مانگ رہی ہے وہ اسے دیدو، پھر وہ عورت ان لوگوں کو لے کر ایک جگہ پر آئی جہاں سے پانی پھوٹ رہا تھا۔ عورت نے کہا: اس پانی کو بند کر دو، ان لوگوں نے پانی کو بند کر دیا۔ اس عورت نے کہا: اب اسے کھولو ان لوگوں نے اسے کھولا، تو وہاں سے سیدنا یوسف علیہ السلام کی ہڈیاں نکل آئیں جب وہ اس سرزمین کی طرف واپس آئے، تو راستہ یوں تھا جیسے دن کی روشنی ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 723
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «الصحيحة» (313). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط محمد بن يزيد الرفاعي وإن خرج له مسلم مختلف فيه، وقال في "التقريب": ليس بقوي، وقد توبع، ومن فوقه من رجال الصحيح. يونس بن عمرو: هو يونس بن أبي إسحاق السبيعي، وابن فضيل: هو محمد بن فضيل بن غزوان.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 721»