کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: پرہیزگاری، توکل (اللہ پر بھروسا) کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی اس چیز سے متعلق ہو جو اس فانی اور زائل دنیا کے اسباب میں شک پیدا کرتی ہو
حدیث نمبر: 722
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ التِّرْمِذِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ حَفِظْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمْ يُحَدِّثْكَ بِهِ أَحَدٌ ، قَالَ: ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ: " دَعْ مَا يُرِيبُكَ إِلَى مَا لا يُرِيبُكَ " ، قَالَ: " الْخَيْرُ طُمَأْنِينَةٌ وَالشَّرُّ رِيبَةٌ " . وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ ، فَأَخَذْتُ تَمْرَةً فَأَلْقَيْتُهَا فِي فِي ، فَأَخَذَهَا بِلُعَابِهَا حَتَّى أَعَادَهَا فِي التَّمْرِ ، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ هَذِهِ التَّمْرَةِ مِنْ هَذَا الصَّبِيِّ؟ فقَالَ: " إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لا يَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ " . وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ: " اللَّهُمَّ اهْدِنَا فِيمَنْ هَدَيْتَ ، وَعَافِنَا فِيمَنْ عَافَيْتَ ، وَتَوَلَّنَا فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ ، وَبَارِكْ لَنَا فِيمَا أَعْطَيْتَ ، وَقِنَا شَرَّ مَا قَضَيْتَ ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلا يُقْضَى عَلَيْكَ ، إِنَّهُ لا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ " .
ابوحوراء سعدی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سن کر یاد رکھی ہو، وہ کسی اور نے آپ کو نہ سنائی ہو، تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” تم اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں مبتلا کرتی ہے اور اس چیز کی طرف جاؤ جو تمہیں شک میں مبتلا نہیں کرتی ہے ۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے: ” بھلائی اطمینان ہوتا ہے اور برائی مشکوک ہوتی ہے ۔“ (سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بتایا) ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں صدقے کی کچھ کھجوریں پیش کی گئیں میں نے ان میں سے ایک کھجور لی اور اپنے منہ میں ڈال لی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کھجور کو پکڑا اس کا لعاب لیا اور واپس اس کھجور میں ڈال دیا۔ آپ کی خدمت میں عرض کی گئی: یا رسول اللہ! اس بچے نے جو کھجور لی تھی اس کے حوالے سے آپ کو، تو کوئی نقصان نہیں ہوتا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہمارے، آل محمد کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے۔ (سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے یہ بات بھی بتائی) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا ہے: ” اے اللہ! جنہیں، تو نے ہدایت عطا کی ہے ان میں ہمیں بھی ہدایت پر ثابت قدم رکھ! جنہیں، تو نے عافیت عطا کی ہے ان میں ہمیں بھی عافیت عطا کر، جن کا تو نگران بنا ہے ان میں سے ہمارا بھی نگران بن، ہمیں تو نے جو کچھ عطا کیا ہے ان میں ہمارے لئے برکت رکھ دے اور جو تو نے فیصلہ کیا ہے، اس کے شر سے ہمیں بچا لے۔ بیشک تو فیصلہ دیتا ہے تیرے خلاف فیصلہ نہیں دیا جا سکتا، جس کا تو نگران ہو، وہ رسوا نہیں ہو سکتا، تو برکت والا اور بلند و برتر ہے ۔“