کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: پرہیزگاری، توکل (اللہ پر بھروسا) کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ دنیا میں شہوات سے بچنے والے کی حالت کیسی ہوتی ہے
حدیث نمبر: 721
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْحَلالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيَّنٌ ، وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ " وَرُبَّمَا قَالَ : مُتَشَابِهَةٌ وَسَأَضْرِبُ لَكُمْ فِي ذَلِكَ مَثَلا : إِنَّ اللَّهَ حَمَى حِمًى ، وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمَهُ ، وَإِنَّهُ مَنْ يَرْتَعْ حَوْلَ الْحِمَى ، يُوشِكْ أَنْ يُخَالِطَ الْحِمَى وَرُبَّمَا ، قَالَ : مَنْ يَرْتَعْ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكْ أَنْ يَرْتَعَ ، وَإِنَّ مَنْ خَالَطَ الرِّيبَةَ ، يُوشِكُ أَنْ يَجْسُرَ " .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) میں تمہارے سامنے اس کی مثال بیان کرتا ہوں۔ بیشک اللہ کی چراگاہ ہی چراگاہ ہے اوراللہ تعالیٰ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں، تو جو شخص چراگاہ کے اردگرد جانور چرانے کی کوشش کرتا ہے، تو ہو سکتا ہے وہ چراگاہ کے اندر داخل ہو جائیں (بعض اوقات راوی نے یہ الفاظ استعمال کئے) جو شخص چراگاہ کے ارد گرد جانور چراتا ہے، تو آگے جا کر وہ چراگاہ کے اندر چرنے لگ پڑتے ہیں، تو جو شخص مشکوک چیزوں کے ساتھ ملاپ اختیار کرتا ہے وہ آگے چل کر اسے عبور بھی کر لیتا ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 721
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «غاية المرام» (20): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين. ابن عون: هو عبد الله بن عون بن أرطبان، والشعبي: هو عامر بن شراحيل.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 719»